پشتون وطن کو کسی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑینگے، چاہے گولیاں کیوں نہ برسائی جائیں

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی چیئرمین محمود خان اچکزئی کاکارکنوں سے عید ملن پر جلسہ سے خطاب

پیر جون 22:20

پشین (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 جون2018ء) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی چیئرمین محمود خان اچکزئی نے تحصیل گلستان کے علاقے عنایت کاریز میں اپنی رہائشگاہ پر عید کے تیسرے دن پارٹی کارکنوں سے عید ملن کے موقع پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون وطن کو کسی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑینگے، چاہے گولیاں کیوں نہ برسائی جائیں ،ماضی کے بدترین ظلم و ستم میں بھی یہ زمین انگریزوں جرنیلوں اور بلوچوں کے حوالے نہیں کی اگر ہمارا موقف اسلام پشتون ولی اور آئین کے خلاف ہے تو ہمیں ووٹ بالکل نہ دیں اور اگر ناجائز کررہے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں برباد کریں ورنہ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر ساتھ دیں ان پر لعنت ہو جو اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرتا ہو سوائے اللہ کے کسی اور طاقت کو تسلیم کرنے سے پہلے اللہ موت دیں وہ انسان انسان کہلانے کہ لائق نہیں جو اپنا حق دوسروں کو دیتا ہو افغانستان کی زمین پر چالیس سال خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں ہزاروں بے گناہ پشتونوں کو قتل کردیا گیا پشتونوں کی نسل کشی کی گئی کوئی بتائے ا نکا قصور اور گناہ کیا ہے جس مسلمان کا دل افغانستان کی جنگ پر دکھی نہیں اسکے ایمان میں شک ہے بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں پشتون قوم نے انگریزوں کے سخت حکمرانی اور مارشلاء میں بھی اسلحہ نہیں اٹھایا اور مستقبل میں بھی نہیں اٹھائیں گے پشتون محب وطن قوم ہے دوسروں کے حقوق پر قبضہ جمانا سراسر ظلم و زیادتی ہے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا ہوگا ظالم قوتوں کیخلاف کھڑا ہونا سب سے بڑا جہاد ہے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا مقصد مظلوم طبقے کاساتھ دینا انکے دلوں میں جگہ بنانا ہے ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں بلوچ ماما آپ ہمارے بھائی ہو آپ ہمیں ڈراؤ نہ ہم آپکو ڈرائینگے پشتو میں کہاوت ہے ’’دوا ورونڑا دریم حساب‘‘ بلوچستان کے تمام وسائل پر ہم دونوں کا ففٹی ففٹی حق ہے آپ اپنے وطن اور زبان ہم اپنے وطن اور زبان کی حفاظت کے نعرے لگائیں گے بلوچ ماما اگر بھائی نہ رہے تو انشاء اللہ مستقبل میں پورے صوبے کو اپنے گرفت میں لے لیں گے خدا را آؤ اور بھائی چارہ قائم کرکے ہاتھوں میں ہاتھ دو پشتون قوم کسی کی طاقت اور ظلم برداشت نہیں کرسکتا ملک کی سلامتی دفاع اور امن کے قیام کیلئے انصاف کرنا ہوگا پشتون بلوچ سندھی سرائیگی اور پنجابی اپنی زمینوں پر آباد ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام تر نعمتوں سے نوازا ہے پاکستان کے آئین کے مطابق ہمیں یہ باور کرانا ہوگا کہ جن زمینوں پر جو نعمتیں اور وسائل ہیں ان پر پہلا حق انکے آباد کاروں کا ہوگا اس طرح ملک کو تا قیات چلاسکیں گے پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں جو شخص بکتا ہے وہ نیک اور جو نہیں بکتا انہیں پتھروں سے مارا جاتا ہے ایسے لوگوں کی حفاظت کی جائے جو ملک اور وطن کی خدمت کریں پاکستان ہمارا ملک ہے جس میں ہمارا وطن بھی ہے ہم اپنے جیب میں چاقو اور ناخون کٹر بھی نہیں ڈال سکتے لیکن لوگوں کو دس کلاشنکوفوں کی رہداریاں دی جاتی ہیں پشتون بھائیوں ہم اپنے ساتھ ناخون کٹر لیکر نہیں گھومتے آپ کلاشنکوف اٹھا کر کھلم کھلا پھرتے ہو آپکی کسی سے کیا دشمنی ہے ہمیں ووٹ عوام نے دینا ہے اولس کی مرضی ہمیں ووٹ دے یا نہ دیں لیکن الیکشن میں مداخلت اور زبردستی سے ملک نہیں چل سکے گا ۔

(جاری ہے)

پاکستان کا آئین تمام سیاسی پارٹیوں کو حقوق کی فراہمی اور ظلم کیخلاف احتجاج کو حق دیتی ہے اسلام آباد میں جب پی ٹی ایم کی جانب سے ریلی نکالی گئی تو انکے کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کیا گیا پشتون قوم کو دیوار سے لگایا نہ جائے ورنہ حالات خراب ہوسکتے ہیں۔خان عبدالصمد خان اچکزئی نے 1929ء میں انگریزوں کیخلاف جنوبی پشتونخوا میں پہلی جنگ لڑی وہ مارشل لاء کے خلاف تھے والد صاحب کے ساتھ اپنی زندگی کے دو سال گزارے والد کی شہادت پر آنسو نہیں بہائے انہوں وطن کی خاطر جان وقف کی جنوبی پشتونخوا میں سب سے پہلے ووٹ سے متعلق عوام کو شعور و آگاہی دی۔