رعدالحسین کی مہاجرین کے خلاف سخت پالیسیوں پر کڑی تنقید

امریکہ دو ہزار بچوں کو ان کے والدین سے الگ کرنے جیسی مشق کو فی الفور ختم کرے‘سربراہ شعبہ انسانی حقوق

منگل جون 11:10

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ زید رعد الحسین نے مہاجرین کے خلاف بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور سخت گیر پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔ رعد الحسین اپنے عہدے کی میعاد ختم ہونے پر جنیوا میں خطاب کر رہے تھے۔عالمی ادارے میں ہیومن رائٹس کے ہائی کمشنر رعدالحسین نے جنیوا میں اپنے فرائض منصبی سے رخصت لینے کے موقع پر ہیومن رائٹس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مجھے افسوس ہے کہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک اٴْن سے ایسا سلوک کرتے ہیں جس اٴْن کی تکالیف میں اضافہ ہوتا ہے۔

زید رعد الحسین نے جن کی مدت ملازمت اگست 2018 میں ختم ہونے والی ہے، دراصل امریکا کی جانب اشارہ کیا جہاں حکام نے میکسیکو کی سرحد پر غیر قانونی تارکین وطن کے قریب دو ہزار بچوں کو اٴْن کے والدین سے الگ کر دیا تھا۔

(جاری ہے)

رعد الحسین نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ خیال بھی کہ بچوں پر ایسا ظلم کر کے والدین کو روک دیا جائے گا، خلافِ ضمیر ہے۔

رعد الحسین نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی مشق کو فی الفور ختم کیا جائے۔۔اقوام متحدہ کے مندوب نے ہنگری کی حکومت پر بھی تنقید کی جس نے مہاجرین کی امدادی تنظیموں پر سخت پابندیاں لگانے کے لیے ایک منصوبہ بنا رکھا ہے۔رعد الحسین نے متنبہ کیا کہ متعصبانہ قوم پرستی دنیا میں سب سے زیادہ تباہ کن قوت ہے اور اقوام متحدہ کے معیارات سے بالکل متضاد بھی۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنی تقریر میں یہ بیانات ایک ایسے وقت میں دیے ہیں جب اطلاعات ہیں کہ امریکا ہیومن رائٹس کونسل سے علیحدگی کا اعلان کر سکتا ہے۔زید نے اپنے خطاب میں ایسے ممالک کی طرف بھی انگلی اٹھائی جو اقوام متحدہ کے وفود کو متنازعہ یا شورش زدہ علاقوں کے دورے کی اجازت نہیں دیتے۔شام، میانمار اور بٴْرونڈی کی حکومتیں عالمی ادارے کی تحقیقاتی ٹیموں کو ایسے علاقوں میں داخلے سے روک چکی ہیں جہاں مبینہ طور پر انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی کی گئی ہے۔

زید رعد الحسین نے اپنے عہدے سے سبکدوشی سے قبل یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے روہنگیا مہاجرین کو انسانی حقوق کے نگران اداروں کی موجودگی کے بغیر میانمار واپس نہیں جانا چاہیے۔