العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس: نوازشریف اورمریم نواز کی حاضری سے استثنی کی درخواست منظور

خواجہ حارث کی وکالت نامہ واپس لینے والی کی درخواست خارج‘ ، سپریم کورٹ نے ہفتے کو عدالت لگانے کا کہا یہ کون سا قانون ہےِ؟۔خواجہ حارث

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 11:46

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس: نوازشریف اورمریم نواز کی حاضری سے استثنی ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 جون۔2018ء) احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں نوازشریف اورمریم نواز کو4روز کیلئے حاضری سے استثنی کی درخواست منظور کرلی ہے- نوازشریف اور مریم نواز نے عدالت سے 7 روز کا استثنا مانگا تھا تاہم عدالت نے انہیں4 روز کا استثناءدے کر سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ، کینسر کے مرض میں مبتلا اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن میں موجود ہیں، جو وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک ہے۔منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیرمیں شریف خاندان کیخلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز آج احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ کیپٹن (ر)محمد صفدر عدالت میں موجود ہیں۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر خواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے، جج محمد بشیرنے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ وہ اپنی وکالت نامے والی درخواست واپس لے رہے ہیں؟۔خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پہلے ایک اور درخواست دینی ہے، بطوروکیل موقف اپنانا میرا حق ہے، ہمیں بھی معلوم ہوجائے گا کہ کیس اکٹھے یا علیحدہ چلیں گے۔ جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ وکالت نامہ واپس لینے والی آپ کی درخواست خارج کردی ہے۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی نے کہا کہ ہم نے تو مخالفت بھی نہیں کی پھر بھی درخواست خارج ہوگئی۔خواجہ حارث نے معزز جج کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ ہی بتادیں کہ اس کیس کی کارروائی کو کیسے آگے چلانا ہے، ہماری کوشش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جائے، ہم سب کو ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہرچیز کے لیے قانون ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے ہفتے کو عدالت لگانے کا کہا یہ کون سا قانون ہےِ؟۔

خواجہ حارث نے کہا کہ وکالت نامہ خارج کرنے کی درخواست خارج کی جائے، درخواست میں خواجہ حارث نے تحفظات بھی عدالت کے سامنے رکھ دیے۔انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کواپنی عدالتی اوقات متعین کرنے کا حکم دیا گیا، کوئی قانون نہیں احتساب عدالت اپنے اوقات کا تعین خود کرے، رول آف لا میں عدالتی وقت اورچھٹیاں مقررکر دی گئی ہیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت عدالتی وقت کے بعد یا چھٹی کے دن کارروائی نہیں چلا سکتی، دلائل اورجرح کی تیاری کے لیے ہزاروں صفحات پڑھنے پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقرروقت کے بعد بھی کارروائی چلے تو اگلے دن کی تیاری نہیں ہوگی، بغیرتیاری کے عدالت آنا میرے موکل کے ساتھ زیادتی ہوگی۔خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت بتا دے ریفرنسزکا فیصلہ ایک ساتھ ہوگا یا کس طرح ہوگا، ہمیں معلوم ہوگا تواس طرح چل سکیں گے، اس طرح ڈبل کام بہت مشکل ہے۔احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءکو بھی طلب کررکھا ہے۔

دوسری جانب عدالت نے سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کو بھی حتمی دلائل کے لیے آخری موقع دے رکھا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پرسابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ معاون وکیل محمد اورنگزیب نے بتایا تھا کہ امجد پرویز کی طبیعت خراب ہے عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔

جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے خواجہ حارث کی جگہ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ داخل کروایا تھا۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کیس سے عیلحدگی اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ہفتوں میں مکمل کرنے سے متعلق ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور ڈکٹیشن دی کہ ایک ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کریں‘ ایسے حالات میں وہ کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ادھر نیب ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کی 7 دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔