برازیلین فٹبال ٹیم سفید کٹ کیوں نہیں پہنتی،حیرت انگیز انکشاف

برازیلی شائقین ابھی تک 1950 ءمیں پیش آنے والا 'ماراکنازو' واقعے کو نہیں بھلا سکے

منگل جون 13:01

برازیلین فٹبال ٹیم سفید کٹ کیوں نہیں پہنتی،حیرت انگیز انکشاف
ماسکو(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔19جون 2018 ء) ہر چار سال بعد کروڑوں لوگ اپنی پسندیدہ ٹیموں کو ورلڈ کپ میں ایک دوسرے کے مدمقابل دیکھنے کے لیے بے تاب ہوتے ہیں لیکن یہ محض ایک ٹرافی کے پیچھے چند ملکوں کا مقابلہ نہیں، بلکہ ایک بڑے پیمانے پر انسانی طاقت کا مظاہرہ ہے اور جہاں انسان ہوں گے، وہاں کچھ مزاحیہ واقعے بھی رونما ہوں گے۔ورلڈ کپ کے دوران کچھ بھی ہوسکتا ہے، کبھی کیمرے کے سامنے تو کبھی پس پردہ۔

ان کہانیوں کو ڈھونڈنے کے لیے برطانوی نشریاتی ادارے نے صحافی لوچیانو ورنیکی سے بات کی، جو 1993 ءسے فٹ بال سے منسلک ناقابل یقین واقعات اکٹھے کرتے آرہے ہیں۔فٹ بال کے شائقین نے شاید برازیل کو کبھی سفید کٹ پہن کر کھیلتے نہیں دیکھا ہوگا۔ اس کی وجہ برازیل کی سب سے شرمناک شکست ہے۔

(جاری ہے)

1950ءکے ورلڈ کپ کا ”ماراکنازو“ کا مشہور واقعہ یاد ہے نا؟ اسی ورلڈ کپ میں میزبان ٹیم برازیل کی کٹ کا رنگ سفید تھا۔

ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے یہی لگتا تھا کہ میزبان ٹیم ہی ورلڈ کپ جیتے گی، لیکن یوروگوئے نے سب کو حیران کر کے دوسری بار ورلڈ کپ اپنے نام کر لیا۔تب سے لے کر آج تک برازیل کی ٹیم نے کبھی سفید رنگ کے کٹ نہیں پہنی۔ اس کے بجائے کھلاڑی اب پیلے یا نیلے رنگ کی جرسیاں پہنتے ہیں۔لیکن محض رنگ ہی نہیں، شکست کھانے والی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بھی بدشگون سمجھا جاتا تھا اور انھیں دنیائے فٹ بال سے دور رکھا گیا۔

یہاں تک کہ اس واقعے کے 43 سال بعد بھی اس ٹیم کے گول کیپر باربوسا کو 1993 ءکے ورلڈ کپ سکواڈ سے ملنے تک کی اجازت نہ تھی۔حال ہی میں برازیل کو ایک اور شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جب 2014 ءکے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل میچ میں میزبان ٹیم کو جرمنی نے ایک کے مقابلے میں سات گول سے ہرا دیا۔ اس شکست کی ذمہ داری بھی ”ماراکنازو“ والی متنازع سکواڈ پر ڈال دی گئی۔

برازیلین فٹبال ٹیم سفید کٹ کیوں نہیں پہنتی،حیرت انگیز انکشاف

متعلقہ عنوان :