سعودی عرب :گرمی کے ستائے ملازمین کے لیے ٹھنڈی ٹھار خبر آ گئی

گرمی کے تین مہینوں کے دوران دوپہر کے تین گھنٹے کھُلے آسمان تلے کام کرنے پر پابندی عائد

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 13:17

سعودی عرب :گرمی کے ستائے ملازمین کے لیے ٹھنڈی ٹھار خبر آ گئی
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19جُون 2018ء) سعودی عرب کا شمار دُنیا کے گرم ترین خطوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ گرمی کے دِنوں میں تو اس کی دھرتی آتش فشاں کی طرح گرمی سے کھولنے لگتی ہے۔ سعودی عرب میں گزشتہ چند سالوں کے دوران ہر شعبے میں انقلابی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں جس سے یہاں کے مقامی باشندے اور غیر مُلکی ملازمین کی فلاح و بہبود میں خاصی ترقی دیکھنے کو مِلی ہے۔

سعودی عرب کی منسٹری آف لیبر اینڈ سوشل ڈیپارٹمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ 15 جُون 2018ء سے لے کر 15 ستمبر 2018ء تک کی تین مہینوں پر محیط مُدت کے دوران کسی بھی ملازم سے دوپہر بارہ بجے سے لے کر سہ پہر تین بجے تک کھُلے آسمان تلے مزدوری نہیں کروائی جائے گی کیونکہ ان مہینوں میں شدت کی گرمی پڑتی ہے جس سے ملازمین کی صحت اور زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس اعلان کا نفاذ 15 جُون 2018ء سے ہو چکا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت کے ترجمان خالد ابو الخلیل کا کہنا تھا کہ کمپنی یا آجروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ اُن کے ملازمین کھُلّے آسمان تلے ان تین گھنٹوں کے دوران قطعاً کام نہیں کریں گے۔ یہ حکم کابینہ کی طرف سے وزارت کو جاری کیا گیا تھا جس کی تکمیل کی خاطر تمام سرکاری اور نجی شعبوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

یہ حکم پُورے مُلک میں لاگو ہو گا۔ جن خطوں میں درجہ حرارت قابلِ برداشت ہے‘ وہاں پر بھی اس پر عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔ تاہم وزارت کے ترجمان ابوالخیل کا کہنا تھا کہ کم درجہ حرارت والے خطوں کے منتظمین کے ساتھ وزارت کی جانب سے صلاح مشورہ کیا جا رہا ہے کہ کیا تین گھنٹوں کی پابندی والے حکم کو اُن کے اپنے اپنے علاقوں میں نافذ کر دیا جائے یا نہ کیا جائے۔ دُوسری جانب تعمیراتی مقامات اور کھُلّے آسمان تلے کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ملازمین کے حق میں بہترین فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔