دنیا کا40فیصد اسلحہ امریکی عوام کے پاس ہے-اقوام متحدہ

مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے تازہ واقعات میں70 افراد ہلاک

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 13:24

دنیا کا40فیصد اسلحہ امریکی عوام کے پاس ہے-اقوام متحدہ
جنیوا(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 جون۔2018ء) امریکا کی نفوس دنیا کی کل آبادی کا صرف 4 فیصد ہے لیکن دنیا کا 40 فیصد اسلحہ امریکی عوام کے پاس ہے۔۔اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کے سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا میں ایک ارب سے زائد اسلحہ موجود ہے جس میں سے 85 فیصد اسلحہ شہریوں کے ہاتھوں میں ہے۔ جینوا میں گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹیڈیز نامے ادارے نے 133 مما لک اور خطے سے اسلحہ کی رجسٹریشن سے متعلق معلومات جمع کیں اور سروے کے نتائج 56 مملک سے اخذ کیے گئے۔

سروے کے مطابق شہریوں کے 85 کروڑ70 لاکھ چھوٹی بڑی بندوقیں ہیں جس میں سے 39 کروڑ 30 لاکھ بندوقیں امریکا میں پائی جاتی ہیں، اس اعتبار سے صرف امریکا میں مجموعی اعتبار سے 25 ممالک سے زیادہ اسلحہ موجود ہے۔

(جاری ہے)

گزشتہ 10 برس کے دوران امریکا میں بندوق کی مالکیت پر غیر معمولی زور دیا گیا۔سروے کے مطابق دنیا بھر کے 85 فیصد ہتھیار عام شہریوں کے پاس ہیں۔

جنیوا کے ادارے کی جاری کی گئی سروے رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد ہتھیار موجود ہیںجن میں سے 85 فیصد عام شہریوں کے پاس ہیں جبکہ باقی بچنے والے ہتھیار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کے پاس ہیں۔شہریوں کے پاس موجود گنز کی تعداد 578 ملین ہے، جبکہ امریکیوں کے پاس 393 ملین گنز موجود ہیں یہ تعداد دیگر 25 ملکوں کے مشترکہ ہتھیاروں سے زیادہ ہے۔

امریکی شہری ہر سال 14 ملین نئی اور غیر ملکی گنز خریدتے ہیں، امریکا میں ہر 100 شہریوں کے پاس 121 ہتھیار موجود ہیں۔جاپان اور انڈونیشیا میں ہر 100 شہری کے پاس ایک سے بھی کم ہتھیار ہوتا ہے۔دریں اثناءامریکا کے مختلف علاقوں میں 3 روز میں فائرنگ کے تازہ واقعات میں70 افراد ہلاک ہوگئے۔ امریکا کے مختلف علاقوں میں 3 روز میں فائرنگ کے تازہ واقعات میں70 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

فائرنگ کے زیادہ تر واقعات ورجینیا ، ٹیکساس ، اوہایو ، ایرازونا اور نیویارک ریاستوں میں پیش آئے۔واضح رہے کہ امریکا میں سالانہ ہزاورں افراد گن کلچر کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ مختلف گروہوں کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ اسلحے کی آزادانہ خرید و فروخت اور کھلے عام اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک قانون وضع کیا جائے لیکن اسلحہ بنانے والی فیکٹریوں کے مالکان اور اسلحہ کی حامی لابی کے کانگریس میں اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ قانون اب تک پاس نہیں ہوسکا ہے۔