کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری روز ،ْبلاول اور شہباز شریف سمیت دیگر کے فارم منظور، مولانا فضل الرحمن ،ْجاوید ہاشمی ،ْ مریم نواز سمیت کئی امیدواروں کے نامزدگی فارم منظور کرلئے گئے

انتخابی شیڈول کے مطابق ریٹرننگ افسران کے فیصلے پر اعتراضات کے لیے اپیلیں 22 جون تک دائر کی جاسکیں گی

منگل جون 13:41

کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری روز ،ْبلاول اور شہباز شریف سمیت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) عام انتخابات 2018 کے لیے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے آخری روز بلاول بھٹو زر داری اور شہباز شریف سمیت کئی امیدواروں کے نامزدگی فارم منظور کرلئے گئے تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات نامزدگی این اے 246 لیاری کی نشست کے لیے منظور کرلیے گئے ،ْ این اے 240 سے تحریک انصاف کے خان زمان خٹک کے کاغذات نامزدگی درست قرار دئیے گئے۔

این اے 132 لاہور کے لیے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے جس پر ریٹرننگ افسر اسلم پنجوتہ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔۔جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے 38 سے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔

(جاری ہے)

ملتان کے حلقہ این اے 155 سے جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔

ڈپٹی میئر کراچی ارشد ووہرا کے این اے 254 اور این اے 255 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما محمد حسین خان کے این اے 245 سے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کے لاہور کی صوبائی اسمبلی پی پی 173 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے، تحریک انصاف کے سرفراز کھوکھر کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات ریٹرننگ افسر خاور رفیق نے مسترد کرتے ہوئے نامزدگی فارم منظور کیے۔

یاد رہے کہ مریم نواز کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 سے پہلے ہی کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں۔ قصور کی صوبائی اسمبلی پی پی 176 سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں۔این اے 1 چترال سے آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے، ریٹرننگ افسر محمد خان نے پرویز مشرف کے نامزدگی فارم پر اٹھائے گئے اعتراضات پر فیصلہ سناتے ہوئے اسے مسترد کیا۔

،ْاین اے 245 سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔ ریٹرننگ افسر احسان خان کے مطابق فاروق ستار 2 مقدمات میں مفرور ہیں اور انہوں نے کاغذات نامزدگی میں مفروری کا ذکر نہیں کیا جس بناء پر ان کے کاغذات مسترد کیے گئے۔انتخابی شیڈول کے مطابق ریٹرننگ افسران کے فیصلے پر اعتراضات کے لیے اپیلیں 22 جون تک دائر کی جاسکیں گی جبکہ امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست 28 جون کو جاری کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2013 کے مقابلے میں 2018 کے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے امیدواروں کی تعداد میں 7 ہزار کے قریب کمی واقع ہوئی ہے۔یاد رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے بیان حلفی جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے پیش نظر کئی سیاستدانوں نے کاغذات نامزدگی جمع ہی نہیں کرائے، خاص طور پر سیف اللہ فیملی نے بھی اسی وجہ سے انتخابات نہ لڑنے کا اعلان کیا ۔