بچوں کی والدین سے علیحدگی کی امریکی پالیسی پر اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

مہاجر بچوں کو والدین سے جدا کرنے کے عمل کو فی الفور روکے، اقوام متحدہ کا امریکہ سے مطالبہ حالیہ ایام میں 2 ہزار کے قریب بچوں کو ان کے کنبوں سے جبری طور پر جدا کر دیا گیا، رعد الا حسین

منگل جون 14:15

جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) اقوام متحدہ نے امریکہ کا والدین کے حوالے سے فیصلے کی بنا پر بچوں کو سزا دینے کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ مہاجر بچوں کو والدین سے جدا کرنے کے عمل کو فی الفور روکے، حالیہ ایام میں 2 ہزار کے قریب بچوں کو ان کے کنبوں سے جبری طور پر جدا کر دیا گیا ۔بین الاقوامی ذرائع کے مطابق امریکہ کا والدین کے حوالے سے فیصلے کی بنا پر بچوں کو سزا دینے کاعمل در آمد باعثِ تشویش ہے۔

اقوامِ متحدہ نے حالیہ 6 ہفتوں کے دوران میکسیکو کی سرحدوں کو پار کرتے ہوئے امریکہ آنے والے 2 ہزار مہاجرین بچوں کو جبرا ان کے والدین سے جدا کرنے والے متحدہ امریکہ کو اس پالیسی سے فوری طور پر باز آنے کی اپیل کی ہے۔۔اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی کمیشن کی 6 جولائی تک جا ری رہنے والی 38 ویں نشست کا آغاز سوئس شہر جنیوا میں ہوا ہے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے اعلی کمشنر زیر رعد الا حسین نے نشست کے افتتاحی خطاب میں بتایا ہے کہ ""امریکہ کا والدین کے حوالے سے فیصلے کی بنا پر بچوں کو سزا دینے کاعمل در آمد باعثِ تشویش ہے۔

حالیہ ایام میں 2 ہزار کے قریب بچوں کو ان کے کنبوں سے جبری طور پر جدا کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ٹرمپ انتظامیہ سے اس غیر انسانی فعل کا فی الفور سد باب کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔