خانہ کعبہ کے بالکل سامنے کلاک ٹاور کے اُوپر موجود چاند کے اندر کمرہ کس کا ہے؟

کلاک ٹاور کے اُوپر موجود چاند کے اندر کمرہ کس کے لیے بنایا گیا ہے؟

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 15:30

خانہ کعبہ کے بالکل سامنے کلاک ٹاور کے اُوپر موجود چاند کے اندر کمرہ ..
مکہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 جون 2018ء) ::سعودی عرب میں بیت اللہ شریف کے عین سامنے ایک خوبصورت عمارت ایستادہ ہے جس کا نام '''مکہ کلاک ٹاور'' ہے۔اس کلاک ٹاور سے متعلق اکثر سوالات ذہن میں اُبھرتے ہیں، کلاک ٹاور پر موجود چاند کے اندر ایک کمرہ بھی موجود ہے۔ اس بلند و بالا کلاک ٹاور کا افتتاح 2013ء میں ہوا اور اس وقت یہ دنیا کی تیسری بلند ترین عمارت تھی۔

اس ٹاور کی بلندی 607میٹر (1991فٹ) ہے اور اس کی چوٹی پر سنہرے رنگ کا خوبصورت ہلال (پہلی تاریخ کا چاند) بنایا گیا ہے جو اس قدر بڑا ہے کہ بہت فاصلے سے بھی اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ اس کلاک ٹاور سے متعلق میں بہت سی معلومات رکھتے ہیں لیکن اس کی ایک چیز ہے جس کے بارے میں یقیناً کسی کو معلوم نہیں ہوتا ، وہ اس ٹاور کی چوٹی پر بنائے گئے خوبصورت ہلال کی تہہ میں ایک ہال نما خاص کمرہ موجود ہے جس کی چھت نہیں ہے۔

(جاری ہے)

یہ اوپن ایئر ہال صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس وقت یہ ہال دنیا بھر میں عبادت کرنے کی بلند ترین جگہ ہے۔ آپ اسے دنیا کی بلند ترین مسجد بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس ہال تک رسائی ایک تیز رفتار لفٹ کے ذریعے ممکن ہے۔ لفٹ کا سفر ختم ہونے پر 18میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے،
جس کے بعد اس خوبصورت ہلال کے اندر بنے کمرے تک پہنچ جاتا ہے۔

اس کمرے کی چھت نہ ہونے کے باعث اس میں سے آسمان صاف نظر آتا ہے اور اگر یہاں سے نیچے دیکھیں تو باقی عمارتوں کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
اس کمرے تک پہنچنے کے لیے ایک متبادل چیئرلفٹ بھی ہے جسے دنیا کی بلند ترین چیئر لفٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس ٹاور کی تمام اطراف میں نصب کیے گئے گھڑیال سائز میں اس قدر بڑھے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک 43 میٹر جگہ کا گھیراؤ کرتا ہے اور ان گھڑیالوں کی ہر ایک سوئی کا وزن 1.5 میٹرک ٹن ہے۔

اس ٹاور کی خوبصورتی کو رات کے اُس وقت مزید چار چاند لگ جاتے ہیں جب اس میں نصب کی گئی 20 لاکھ ایل ای ڈی لائٹس روشن کی جاتی ہیں اور پورا ٹاور ان رنگا رنگ روشنیوں میں نہا جاتا ہے۔ یہ روشنیاں 17 کلو میٹر کے فاصلے سے دیکھی جا سکتی ہیں۔