سابق اسرائیلی وزیر پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں فرد ِجرم عائد

گونن نے ایران کو توانائی مارکیٹ ، سکیورٹی تنصیبات ، سکیورٹی اداروں اور حکام بارے معلومات فراہم کیں، حکام لگائے گئے تمام الزامات گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں،وکلاء گونن سیگیف

منگل جون 15:50

سابق اسرائیلی وزیر پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں فرد ِجرم عائد
تل ابیب(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) سابق اسرائیلی وزیر گونن سیگیف پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں فرد ِجرم عائد کر دی گئی، گونن ایرانی انٹیلی جینس کو توانائی کی مارکیٹ ، اسرائیل میں سکیورٹی تنصیبات ، سیاسی اور سکیورٹی اداروں کی عمارتوں اور حکام کے بارے میں معلومات فراہم کیں،گونن پر لگائے گئے تمام الزامت گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کے ایک سابق وزیر گونن سیگیف کے خلاف ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عاید کردی گئی ہے۔انھیں گذشتہ ماہ مغربی افریقا کے ملک گنی میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر اسرائیل واپسی پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔۔اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ذمے دار ایجنسی شین بیت نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ 62 سالہ سیگیف کے خلاف جمعہ کو جنگ کے زمانے میں دشمن کو معلومات فراہم کرنے اور ریاستِ اسرائیل کے خلاف جاسوسی کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ انھوں نے ایران کی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی کی تھی۔شین بیت کا کہنا ہے کہ سابق وزیر نائیجیریا میں ایرانی سفار ت خانے سے رابطے میں رہے تھے۔وہ اس افریقی ملک میں بھی کچھ عرصہ مقیم رہے تھے ۔ بعد میں انھوں نے ایران کا سفر کیا تھا اور اپنے ساتھ رابطہ رکھنے والے ایرانی انٹیلی جنس کے ایجنٹ سے ملاقات کی تھی۔

اس نے بیان میں مزید کہا ہے کہ سیگیف نے ایرانی ایجنٹوں کو توانائی کی مارکیٹ ، اسرائیل میں سکیورٹی تنصیبات ، سیاسی اور سکیورٹی اداروں کی عمارتوں اور حکام کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔دوسری جانب مسٹر سیگیف کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل پر عاید کردہ الزامات کی زیادہ تر تفصیل ریاست کے نافذ کردہ بلیک آٹ میں حاصل کی گئی ہے۔اس حوالے سے بہت تھوڑی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور اس طرح ایک گم راہ کن تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

متعلقہ عنوان :