سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں دن بھر آزاد جموں و کشمیر کے سینئر وکلاء کی طرف سے چیف جسٹس و جج صاحبان کے ساتھ ملاقاتیں

منگل جون 16:05

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر میں دن بھر آزاد جموں و کشمیر کے سینئر وکلاء کی طرف سے چیف جسٹس و جج صاحبان کے ساتھ ملاقاتیں، عیدالفطر کی تعطیلات کے بعد وکلا کا رش،مبارکباد پیش کرنے کے ساتھ وکلا برادری کی جانب سے سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی مثالی کارکردگی، مقدمات کے فوری اور بروقت اور بلا تاخیر تصفیہ، سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کو رشوت ستانی اور بدمعاملگی سے پاک ادارہ قرار دیتے ہوئے مثالی کارکردگی کو قابل ستائش قرار دیا اور چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کو خراج تحسین پیش کیا۔

سنٹرل بار مظفرآباد کے اراکین سینئر قانون دان محمد نوراللہ قریشی ایڈووکیٹ، راجہ محمد حنیف خان ایڈووکیٹ، طاہر عزیز خان ایڈووکیٹ، بشیر احمد مغل ایڈووکیٹ، محمد رفیق کیانی ایڈووکیٹ،راجہ محمد نواز خان ایڈووکیٹ،احمد نواز خان ایڈووکیٹ، ناصر مسعود مغل ایڈووکیٹ، سید سروش گیلانی ایڈووکیٹ، خواجہ ارشد محمود ایڈووکیٹ، سید عاصم گیلانی ایڈووکیٹ، سید منظور احمد شاہ ایڈووکیٹ کے علاوہ دیگر وکلا نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں کچھ عناصر کی جانب سے عدلیہ اور آئینی اداروں کے خلاف انتہائی نا مناسب طرز عمل اختیار کیا گیا ہے جس کے خلاف وکلا برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور ایسے منفی طرز عمل کے خلاف وہ مکمل طور پر کمربستہ ہیں اور کسی بھی طالع آزما کو عدلیہ پر لشکر کشی کے اجازت نہیں دی جائے گی، آزاد جموں و کشمیر کے وکلا اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے آئندہ چند روز میں لائحہ عمل طے کریںگے اور منفی ہتھکنڈے اور سازشوں کا منہ توڑ اور مؤثرجواب دینے کے لئے حکمت عملی طے کی جائے گی اور ایسی کسی بھی قسم کی مہم جوئی کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا،سنٹرل بار کے سینئر اراکین نے آزاد جموں و کشمیر کی تمام عدالتوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر آئین اور قانون کے نفاذ اور عملداری کو یقینی بنائیں اور اس سلسلہ میں فوری اقدامات کریں۔

(جاری ہے)

کوئی بھی شخص یا گروہ قانون سے بالا تر نہ ہے، جو بھی آئین اور قانون کے خلاف طرز عمل اپناتا ہے اس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔