آزادجموں وکشمیر کے طلبہ نے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کا پتلا نذرِ آتش کرنے کا اعلان

منگل جون 16:05

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) آزادجموں وکشمیر کے طلبہ نے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کا پتلا نذرِ آتش کرنے کا اعلان کر دیا،سیکرٹری آزادجموں وکشمیر ہائیر ایجوکیشن قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئے،،پاکستان کی قومی زبان کو سرکاری دفاتر سے باہر نکالنے کی سر توڑ کوششیںشروع کر دیں ،سیکرٹریٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں اردو کی جگہ انگریزی کو خط و کتابت کے لیے لازمی قرار دے دیا ،،سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کی ہدایات کو بھی پس پشت ڈال دیا،آزادجموں وکشمیر بھر کے عوام میں تشویش کی لہردوڑ گئی ،،وزیراعظم ،چیف سیکرٹری ،،چیف جسٹس سپریم کورٹ سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ ،یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلبہ راہنمائوں مرزا رضوان بیگ ،افضال عالم ،رضا علی عابدی ،طلعت جبین ،ماہ رخ جعفری ،طیبہ نور ،بابر الیاس،راجا قاسم ،شعیب لون،آسیہ شفیع،محمد اقبال ،سہیل میر ودیگر نے کہا کہ اردو ملک کی قومی زبان ہے ،2015ء میں سپریم کورٹ پاکستان کے حکم کے بعد ملک کے دفاتر میں بھی اس کے نفاذ کا کام بہ تدریج جاری ہے جب کہ آزادجموں وکشمیر میں 1967ء سے اردو کو دفتری زبان کا درجہ حاصل ہے ،آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ کے قومی زبان اردو میں فیصلے اور عدالت کے واضح احکامات کے تحت سرکاری دفاتر میں بھی قومی یکجہتی کی علامت زبان کو برتر درجہ حاصل ہے اور تمام خط و کتابت اردو زبان میں ہو رہی ہے لیکن سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتے ہوئے سیکرٹریٹ میں اردو کو انگریزی کی جگہ لازمی قرار دیا ہے جو کہ باعث تشویش ہے ،ایسا لگتا ہے کہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن سامراج کے ایجنٹ ہیں اور دفاتر میں قومی یکجہتی کی علامت کو ختم کر کے سامراجی ایجنڈے پر کام کرنا چاہتے ہیں ،اگرچہ انگریزی ،عربی سمیت دیگر زبانیں وقت کی ضرورت ہیں تاہم اپنی عزت سب سے زیادہ مقدم ہے ،جو ارباب اختیار اپنی عزت کا تحفظ نہیں کر سکتے وہ سرکاری اداروں کا کیا تحفظ کریں گے،سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں قوم کو یہ بتایا جائے،طلبہ راہنمائو ں نے کہا کہ اگر فوری طور پر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن کا پتلا نذر آتش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔