حکومت آزادکشمیر کی جانب سے کشمیر کونسل کے اختیارات حکومت آزادکشمیر کی منتقلی ایکٹ 74میں 13ویں ترمیم پر عملدرآمد کے بعد کشمیر کونسل کے فنڈز حکومت آزادکشمیر نے جبراً بند کردیے نہ نوٹیفکیشن نہ کوئی آرڈر ، زبانی اے جی آفس کو چیک روکنے کے احکامات جاری کرنے کے بعد16روز گزرنے کے بعدچیک ریلیز نہ ہوسکے

منگل جون 16:05

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) حکومت آزادکشمیر کی جانب سے کشمیر کونسل کے اختیارات حکومت آزادکشمیر کی منتقلی ایکٹ 74میں 13ویں ترمیم پر عملدرآمد کے بعد کشمیر کونسل کے فنڈز حکومت آزادکشمیر نے جبراً بند کردیے نہ نوٹیفکیشن نہ کوئی آرڈر ، زبانی اے جی آفس کو چیک روکنے کے احکامات جاری کرنے کے بعد16روز گزرنے کے بعدچیک ریلیز نہ ہوسکے عوام کی جانب سے عدالت عالیہ جانے کا اعلان ! حکومت آزادکشمیر 2017ء اور 18کشمیر کونسل کے فنڈز کا اختیار نہیں رکھ سکتی اُس کے باوجود وزیر اعظم آزادکشمیر نے 3جون 2017کو جب اے جی آفس کی جانب سے اسکیموں کے چیک جاری کرنے کیلئے ٹھیکداروں کو بلایا گیا تھا اچانک ہی روک دیا گیا جس کی اصل صورت حال نہ تو اے جی آفس سے معلوم ہوسکی نہ ہی حکومت آزادکشمیر نے کوئی وضاحت پیش کی جبکہ ڈویژن مظفرآباد سمیت آزادکشمیر کے دس اضلاع کے فنڈز کو روکنا عوام کے ساتھ سراسر ذیادتی ہے کیونکہ کشمیر کونسل کے فنڈز 2017اور 2018ء وفاقی حکومت نے جاری کئے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوا اور سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے منظوری بھی دی اُس سے قبل میاں نواز شریف بھی منظوری دے چکے تھے جبکہ تمام پراسس طے ہونے کے بعد لوکل گورنمنٹ نے باقاعدہ ورک آرڈر جاری کئے جس پر آزادکشمیر بھر کے مختلف اضلاع کے لوگوں نے واٹر سپلائی ، سڑکوں کی پختگی سمیت دیگر منصوبوں پر کام شروع کیا گیا جبکہ رولز اور قانون کے مطابق باقاعدہ کام کی چیکنگ کے بعد چیک جاری کئے جاتے ہیں مگر ایسا کرنے سے قبل ہی حکومت آزادکشمیر نے کشمیر کونسل کے فنڈز پر پابندی لگا کر لوگوں کو نئی مصیبت میں پھنسا دیا کیونکہ مختلف منصوبوں پر لوگوں نے اپنی جیبوں سے لاکھوں روپے خرچ کرکے کام شروع تو کئے مگر حکومت آزادکشمیر کی ہٹ دھرمی کے باعث بغیر آرڈر اور نوٹیفکیشن کے 16روز گزرنے کے باوجود چیک جاری نہ ہوسکے جبکہ 30جون تک اگر کشمیر کونسل کے کروڑوں روپے منصوبوں پر خرچ نہ کئے گئے تو یہ تمام رقم وفاقی حکومت کو لیپس ہوسکتے ہیں جس سے آزادکشمیر کی عوام کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا ، عوام کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم آزادکشمیر نے چیکوں پر سے پابندی اُٹھا کر جاری نہ کئے تو پھر عدالت عالیہ سے رجوع بھی کریں گے اور شدید احتجاج بھی کرنے کا حق رکھتے ہیں جبکہ ایکٹ74، 13ویں ترمیم کے مطابق حکومت آزادکشمیر کشمیر کونسل کے اُن فنڈز کے ذمہ دار ہے جو 2018/19کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کے بعد جون کے بعد ٹیکس سے حاصل ہونے والے فنڈز حکومت آزادکشمیر کے خزانے میں جمع ہونگے اُس کے بعد حکومت آزادکشمیر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرسکتی ہے دوسری جانب ممبران کشمیر کونسل کی جانب سے خاموشی یا حکومت کے ساتھ ساز باز جو سوالیہ نشان ہی کیا ایسا تو نہیں ہے کہ ممبران کشمیر کونسل نے اپنی کمیشن لے کر خاموشی اختیار کررکھی ہے اورعوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے اگر ایسا ہوا تو آئندہ کیلئے ممبران کشمیر کونسل اور حکومت کیلئے سخت ترین مسائل سامنے آسکتے ہیں جس کی ذمہ داری حکومت آزادکشمیر پر عائد ہوگی۔