قلت کے خدشے کے پیش نظر یوریا کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زائد اضافہ

یوریا کھاد فصلوں کے لیے ایک بہت لازمی جز ہے اور اس کی قیمت میں اضافے سے زرعی شعبے کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے

منگل جون 16:11

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) ملک میں خریف کا سیزن شروع ہوتے ہی یوریا کھاد کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث گزشتہ 5ہفتوں میں یوریا کھاد کی قیمت میں 15فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا یے۔ یوریا کھاد فصلوں کے لیے ایک بہت لازمی جز ہے اور اس کی قیمت میں اضافے سے زرعی شعبے کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت ملک میں سوئی نادرن گیس پر چلنے والے تین یوریا پلانٹ گزشتہ کئی ماہ سے گیس کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں جس سے ماہانہ تقریبا 90ہزار میٹرک ٹن یوریا کھاد کی پیداوار میں کمی ہوگئی ہے۔

جبکہ دیگر پلانٹ جو کہ ماری گیس اور سوئی سدرن کے نیٹ ورک پر ہیں وہ مجموعی طور پر ماہانہ چار لاکھ ساٹھ ہزار میٹرک ٹن یوریا بنارہے جو کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہوں گے۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ 5ہفتوں میں یوریا کھاد کی قیمت میں تقریبا 15سی17 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ ماہ کے آغاز پر یوریا کھاد کی 50کلوگرام کی بوری کی ریٹیل قیمت 1400روپے تھی جس میں 100روپے کا اضافہ یوریا کھاد بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے کیا گیا کیونکہ حکومت نے ان کو سبسڈی کی ادائیگی نہیں کی جس سے ان کی پیداوارج لاگت بڑھ گئی ہے ۔

جبکہ مزید 100روپے کا اضافہ ذخیرہ اندوزوں اور ڈیلرزکی جانب سے کیا گیا ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں یوریا کی قلت کا خدشہ ہے ۔اس طرح یوریا کھاد کی بوری کی قیمت گزشتہ 5ہفتوں میں 1400 سے بڑھ کر 1600 ہو گئی ہے ۔ جبکہ اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت نیملک میں کھاد کی اضافی پیداوار کے بعد کمپنیوں کے مطالبے پر یوری کی برآمد کی اجازت دی تھی اور اکتوبر سے مارچ تک ملک سے ایک لاکھ 80ہزار میٹرک ٹن یوریا برآمد کی گئی۔

جب برآمد کی اجازت دی گئی تو اس وقت سوئی نادرن گیس کے نیٹ ورک والے 3پلانٹس کو بھی گیس کی فراہمی جاری تھی اور ملک میں وافر مقدار میں یوریا کے ذخائر موجود تھے۔ مگر سات ماہ سے گیس کی فراہمی بند ہونے سے پیداوار میں کمی کا سامنا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قلت کو روکنے کے لئے فوری طور پر سوئی نادرن گیس کے نیٹ ورک پر موجود پلانٹس کو یا تو گیس فراہم کی جائے کا پھر بیرون ملک سے یوریا منگوانے کے فوری انتظامات کئے جائیں تاکہ کسانوں کو مقررہ نرخوں پر یوریا مل سکے۔

یہ بات واضح رہے کہ ملک میں دو لاکھ یوریا کے ذخائر ہر وقت موجود ہونے چاہئیں تا کہ کسی قسم کا بحران پیدا نہ ہو مگر موجودہ صوتحال میں اگست میں ملک سے یوریا کے ذخائر صرف ہزاروں میں رہ جائیں گے ۔ خریف کی فصل کے لئے یوریا کی طلب کا تخمینہ 3.13 ملین ٹن لگایا گیا ہے جبکہ دستیاب ذخائر 3.11ملین ٹن ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر یوریا کھاد درآمد کرنے کے اقدامات نہ کئے گئے تو زرعی شعبے کی کارکردگی متاثر ہو گی اور کسانوں کو مہنگی کھا خریدنا پڑے گی۔

متعلقہ عنوان :