پاکستانی صنعت کو ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ‘ماہرین

فیصلہ سازوں اور نجی شعبے کے درمیان تعلقات کا فروغ کاروباردوست پالیسیوں کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کیے گئے فیصلے فائدہ کے بجائے نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں ‘انجم نثار ،ملک طاہر جاوید ، امجد علی جاوا و دیگر کا خطاب

منگل جون 16:18

پاکستانی صنعت کو ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ‘ماہرین
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) پاکستانی صنعت کو ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف یہ اپنی پیداوار بڑھااور عالمی منڈی میں جگہ بناسکے بلکہ تیزی سے بدلتے ہوئے بین الاقوامی تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہوسکے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر صنعت میاں انجم نثار، لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید، امجد علی جاوا اور دیگر ماہرین نے فارما گروپ ولشائر لیبارٹریز کی چار سو سے زائد افراد پر مشتمل سیلز ٹیم کے تین روزہ تربیتی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

میاں انجم نثار نے کہا کہ پاکستان میں ادویہ سازی کے شعبہ کی برآمدات بڑھانے کے لیے تکنیکی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے،قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں کوئی فارما یونٹ نہیں تھا مگر اب ملک بھر میں 850سے زائد فارمایونٹس کام کررہے ہیں جو بڑے فخر کی بات ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی منڈی ہے جو غیرملکی سرمایہ کاروںکی توجہ کا مرکزہے، اس سے ہمیں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہرجاوید نے کہا کہ فیصلہ سازوں اور نجی شعبے کے درمیان تعلقات کا فروغ کاروباردوست پالیسیوں کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے، سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر کیے گئے فیصلے فائدہ کے بجائے نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں لہذا پالیسی سازی کے عمل میں کاروباری برادری کو شامل مشاورت رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریگولیشنز کے نفاذ کا مقصد کاروباری برادری کو سہولیات مہیا کرنا ہونا چاہیے۔

چیئرمین ویلشائیر لبارٹریز اور سابق سینئر نائب صدر ایل سی سی آئی امجد علی جاوا کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی مارکیٹ میں بہت اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس ہی بنا پر ولشائرز نے 2020 تک 20 ممالک تک اپنی مصنوعات کی رسائی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستان بھر میں بین الاقوامی معیار کی ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے۔