حلقہ این اے 53 سے بڑا فیصلہ آ گیا

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کی منحرف رہنما عائشہ گلا لئی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جون 16:14

حلقہ این اے 53 سے بڑا فیصلہ آ گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 جون 2018ء) ::عام انتخابات 2018 کے لیے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،، پی ٹی آئی کی منحرف رکن عائشہ گلالئی اور مسلم لیگ (ن) کے رکن سردار مہتاب عباسی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے بھی حلقہ این اے 53 سے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کیے جا چکے ہیں۔

امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بیان حلفی کی شق 'این' کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق نہ ہونے پر مسترد کیے گئے۔ ریٹرننگ افسر کے مطابق چاروں امیدواروں نے اپنے حلقے میں مفاد عامہ کے کاموں کی تفصیلات نہیں دی تھیں۔ یاد رہے کہ آج صبح ہی چیئرمین تحریک انصافعمران خان کے این اے 53 سے جمع کروائے جانے والے کاغذات نامزدگی پر اٹھائے گئے اعتراضات پر ریٹرننگ افسر نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

(جاری ہے)

جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے اُمیدوار عبدالوہاب کی جانب سے عمران خان کے خلاف اعتراضات ریٹرننگ افسر کو جمع کروائے گئے جس پر دونوں فریقین کے وکلا کی جانب سے آج دلائل مکمل کیے گئے تھے۔ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آر او نے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کیا ۔ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ نے اعتراضات میں اخباری تراشے اور فوٹو اسٹیٹ کاپیاں جمع کروائیں جس پر یقین نہیں رکھ سکتے اور فوٹو کاپیوں پر یقین کرنے کا مقصد اُمیدواروں کو انتخابات کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ہے۔

بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ نے امریکی عدالت کے ایک فیصلے سامنے لائے، امریکی عدالت کے فیصلے میں بچی کے باپ کا نام کہاں لکھا گیا، باپ کا نام نہیں، یہ فوٹو کاپیاں ہیں۔۔۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ خالہ کو نہیں پتہ اس کا باپ کون ہے، حلف نامے میں نہیں پتہ کونسا عمران خان ہے اور حلف نامہ نومبر 18 سال 2004 کو لاہور میں تیار کیا گیا اور یہ کاغذ 19 نومبر کو اُڑ کر امریکیعدالت میں پہنچ گیا، اس وقت پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست فلائٹ بھی نہیں جاتی تھی