ترقی کا چینی ماڈل مسلسل مقبولیت حاصل کررہا ہے

چینی ماڈل ترقی پذیر ممالک کے بہتر مستقبل کے لیے امید کا پیغام ہے ،چینی اخبار گلوبل ٹائمز کی رپورٹ

منگل جون 16:37

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کئی سال سے چین کے بہتر طرز حکومت کی زبردست تعریف کرتے ہیں کہ اس نے عام آدمی کے طرز زندگی کو بہتر بنا کر اپنی اہمیت ثابت کردی ہے۔چینی ماڈل مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ اور یہ ان ممالک کے بہتر مستقبل کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنی آزادی برقرار رکھتے ہوئے تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ایک پاکستانی سفارتکار نے صدر شی جن پھنگ کی بنی نوع انسان کے لیے مساوی قسمت کی برادری بنانے کے صدر شی جن پھنگ کے نظریے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں بھی پاکستان میں ترقی کے چینی ماڈل سے سابق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ ہم اپنے سیاسی ،سماجی اور اقتصادی مسائل پر قابو پاسکیںچینی ماڈل نے بلا شبہ لبرل اقدار کے بارے میں کئی سوال اٹھا دیے ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن اس نے ترقی کے فلسفے کو کافی مواد فراہم کیا ہے۔کیونکہ ترقی کے ماڈل کے لیے نہ تو تاریخ ختم ہوگئی ہے۔ اور نہ ہی ارتقاء کی کوئی حد ہے۔اب یہ مغرب کے لیے سنجیدگی سے اپنے مسائل پر لاگو کرنے کا وقت ہے اور اپنی اقدار پر دوبارہ غور کرنے کا وقت ہے۔۔چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز نے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی کی کامیابیوں میں گم ہونے کے بجائے بہتری اور آگے بڑھنے کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر ہم اندرونی صورتحال اور فرضی خارجی خطرات کا دفاع کرنے میں لگے رہیں گے۔ تو لبرل ڈیموکریسی اور اداروں کو بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔مغرب میں آج کل لبرل ڈیموکریسی کے بارے میں جس بڑے چیلینج پر بحث کی جاتی ہے۔ وہ ابھرتے ہوئے چین اور چینی ترقی کے ماڈل کے محسوس کیے گئے خطرات ہیں چین نے مختلف ماڈل کے ذریعے تیزی سے ترقی کی ہے۔جس سے مغرب ڈرا ہوا ہے اور اس نے پورے مغرب کو پریشان کررکھا ہے،اخبار استفسار کرتا ہے۔

کیا چین مغربی لبرل آرڈر کو ترک کر دینے کی کوشش کرے گا کیا وہ اپنے ترقی کے نظریات ،اقدار اور سیاسی نظام کو دوسرے ملکوں تک پھیلائے گا یہ ایسے ہی خدشات ہیں جو مغربی دانشوروں ،سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کا پیچھا کررہے ہیں کیا چین لبرل ازم کے لیے کوئی خطرہ ہیں معاشی ماہرین اب اس پر بحث کررہے ہیں کیا مغرب کو ابھرتے ہوئے چین سے اپنی لبرل اقدار کے بارے میں کوئی خطرہ ہی اور اگر لبرل اقدار بہترین معیار کی ہیں تو انھیں ناتو چیلینج کیا جاسکتا ہے اور نہ انھیں کوئی خطرہ ہے۔

سرحد جنگ کے بعد مغربی لبرل ڈیموکریسی اور مارکیٹ اکانومی سسٹم جو کہ لبرل اقدار پر استوار ہیں جن میں شخصی آزادی ،مساوات،سرمایہ دارانہ اقدار شامل ہیں نے ترقی کی ہے ایک امریکی سیاسی سائنسدان نے اعلان کیا ہے کہ آزاد مارکیٹ لبرل ڈیموکریسی بلآخر دنیا کی حتمی انسانی حکومت کی شکل اختیار کرلے گی۔مغرب کو لبرل ازم کے بحران کے لیے خود دوربینی سے کام لینا چاہیے لبرل نظریات اور ادارے ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل حل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کئی ترقی پذیر حکومتوں نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ مغربی سیاسی نظام کی نقالی سے ان کے لییحکومتیں چلانا مشکل ہوگیا ہے۔

متعلقہ عنوان :