متحدہ عرب امارات: بیوہ اور مطلقہ خواتین کے لیے بڑی خوش خبری

کُنبے کے سربراہ سے محروم خواتین کے لیے ایک سالہ مُدت کے ویزہ کا اعلان کر دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 16:27

متحدہ عرب امارات: بیوہ اور مطلقہ خواتین کے لیے بڑی خوش خبری
ابو ظہبی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19جُون 2018ء) متحدہ عرب امارات کی سرزمین کو بیرونِ مُلک روزگار کے خواہش مند افراد کے لیے جنت قرار دِیا جاتا ہے۔ امیگریشن کی نرم پالیسیوں کے باعث دُنیابھر سے لاکھوں افراد یہاں مقیم ہیں اور رزق کما کر اپنے گھر والوں کی کفالت کرتے ہیں۔ ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود پر مبنی پالیسیوں کو دُنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔

انہی عمدہ پالیسیوں کی بناء پر متحدہ عرب امارات دِن دُگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ گزشتہ دِنوں متحدہ عرب امارات کی کابینہ کی جانب سے ویزہ پالیسیوں میں مزید نرمی اختیار کرتے ہوئے بہت سے فیصلے لئے گئے ہیں۔ ان فیصلوں میں سے ایک شاندار فیصلہ امارات میں مقیم غیر مُلکی خواتین کے حوالے سے ہے جس کے تحت مطلقہ اور بیوہ خواتین اور اُن کے بچوں کے لیے ویزے کی مُدت میں ایک سال کی توسیع کر دی جائے گی تاکہ اس مُدت کے دوران وہ بآسانی ملازمت تلاش کر کے اپنے کُنبے کو معاشی اور سماجی بحران کا شکار ہونے سے بچا سکیں۔

(جاری ہے)

بیوہ خواتین کے لیے یہ ویزہ اُن کے خاوند کی وفات کے دِن سے شمار کیا جا ئے گا جبکہ مطلقہ خواتین کے لیے ویزے کی مُدت میں توسیع کا آغاز طلاق والے روز سے ہو گا۔ اس ایک سالہ رہائشی مُدت کے ویزہ کے دوران وہ سپانسر کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اس پالیسی کا اطلاق رواں سال کی چوتھی سہ ماہی سے ہو گا جس کے باعث متحدہ عرب امارات میں مقیم غیر مُلکیوں اور سیاحوں میں شامل خواتین کی ایک بڑی تعداداس سہولت سے فائدہ اُٹھا سکیں گی۔

انسانی ہمدردی کی بناء پر لیا گیا یہ فیصلہ یہاں پر مقیم مطلقہ اور بیوہ خواتین کے لیے سُکھ کا سانس ثابت ہو گا جو کُنبے کے سربراہ سے محروم ہونے کے بعد خود کو کنبے کے سربراہ کی حیثیت سے روزگار کے سلسلے سے جوڑ سکیں گی۔ نیز اس پالیسی کے باعث متحدہ عرب امارات کا دُنیا بھر کے پسماندہ اور ضرورت مند افراد کو گلے لگانے کا امیج مزید بہتر ہو گا۔