مسئلہ کشمیر اور ایل او سی پر سیز فائر بارے دو طرفہ مذاکرات کیلئے متعددبار کوشش کی، زید بن رعد الحسین

پاک بھارت نے غیر مشروط رسائی دینے سے انکار کر دیا، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے خود مختار تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے،مقتول کشمیری صحافی بہادر اور امن کیلئے فعال شخص تھے،ہائی کمشنر انسانی حقوق

منگل جون 18:32

جنیوا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید بن رعد الحسین نے کہا ہے کہ گذشتہ 2برس میں مسئلہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر سیز فائر بارے بھارت اور پاکستان کو مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی متعددبار کوشش کی،پاک بھارت نے غیر مشروط رسائی دینے سے انکار کر دیا، کشمیر میں جارینسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مکمل چھان بین کے لیے خود مختار تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے،مقتول کشمیری صحافی شجاعت بخاری بہادر اور امن کے لیے خاصے فعال شخص تھے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید بن رعد الحسین نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ 2 برس میں پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف صورتحال بہتر بنانے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنے کی متعدد کوششیں کیں۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کی جانب سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہوں نے بیان دیا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے غیر مشروط رسائی دینے سے انکار کے باعث اقوام متحدہ کو فاصلے سے نگرانی کرنی پڑی۔

انہوں نے جینیوا میں موجود ہیومن رائٹس کونسل پر زور دیا کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مکمل چھان بین کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے پر غور کیا جائے۔اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے شجاعت بخاری کے قتل پر بہت دکھ ہوا، وہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے بہادر اور امن کے لیے خاصے فعال شخص تھے جبکہ بھارت اور پاکستان کے مابین ٹریک-ٹو ڈپلومیسی میں بھی کردارادا کررہے تھے تاکہ پرتشدد کارروائیوں کے خاتمے میں مدد مل سکے۔