دُبئی: علاج کی خاطر کمپنی کے چیک چُرانے والے کی سزا میں کمی کر دی گئی

ملزم نے کمپنی کی جانب سے طبی بُنیادوں پر رخصت سے انکار پر انتہائی قدم اُٹھایا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل جون 17:14

دُبئی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19جُون 2018ء) عدالت نے کمپنی کے تین چیک چوری کرنے والے بھارتی ملازم کو قبل ازیں سُنائی گئی تین سال قید کی سزا میں سے تین ماہ کی سزا کم کر دی۔ تفصیلات کے مطابق دُبئی کی کمپنی میں ملازم بھارتی شہری نے اپنی آنکھ کا علاج کروانے کی خاطر طبی بنیادوں پر رُخصت مانگی تھی جس کی کمپنی کی جانب سے اجازت نہیں مِلی۔گزشتہ ماہ کمپنی کے بھارتی سُپروائزر کوایک صبح پتا چلا کہ سیف میں سے بینک کے تین چیک چوری ہو گئے ہیں جبکہ کمپنی کے 25 سالہ بھارتی ملازم کا پاسپورٹ بھی موجود نہیں تھا۔

اس پر سپروائزر نے تمام ملازمین کو طلب کر کے اُن سے تفتیش کی کہ کس نے چیک چُرائے ہیں‘ پہلی بار ملزم نے اس چوری سے انکار کیا مگر ملزم کا پاسپورٹ نہ موجود ہونے پر اُسے دُوسری بار پھر طلب کیا گیا جس دوران اُس نے چیک چوری کرنے کا اعتراف کر لیا۔

(جاری ہے)

دُبئی کی مقامی عدالت نے ملزم کو ملازمت کی جگہ پر چوری کرنے کے الزام میں تین سال قید کی سزا سُنائی تھی تاہم انسانی ہمدردی کی بُنیاد پر پریزائیڈنگ جج فہد الشمسی نے ملزم کی سزا میں تین ماہ کی کمی کر دی۔

ملزم کے مطابق اُس کی آنکھ جزوی اندھے پن کا شکار ہو گئی تھی جس کے علاج کے لیے اُس نے چھُٹی کی درخواست دی تھی مگر اسے مسترد کر دیا گیا۔ ملزم نے روتے ہوئے عدالت کو بتایا ’’میں نے چیک اس لیے چوری کیے کیونکہ مجھے علاج کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔‘‘ ملزم کا مزید کہنا تھا کہ اُس نے چوری نہیں کرنی تھی مگر کمپنی کے سخت طرزِ عمل کے باعث وہ اس امر پر مجبور ہوا۔ اس کے علاوہ کمپنی کے مالک اور اُس کے درمیان اُجرت کو لے کر جھگڑا بھی چل رہا تھا۔ اس موقع پر ملزم کی جانب سے دُبئی کی لیبر کورٹ میں اُس کی جانب سے دائر مقدمے کی نقل بھی فراہم کی گئی ۔ جج کی جانب سے ملزم کی سزا میں کمی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس میں تین ماہ کی کمی کر دی گئی۔