مصر میں دہشتگردی کی بنیاد پر امیرِ قطر کے خلاف 15کروڑ ڈالرہرجانے کا مقدمہ دائر

عدالت نے مقدمے کی اولین سماعت کے لیے رواں برس 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے

منگل جون 18:50

قاہرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) مصر میں مسلح حملوں کا نشانہ بننے والے متعدد افراد کے خاندانوں نے قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی کے خلاف 15 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ یہ ایک عرب ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جو کسی دوسرے عرب ملک کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔مذکورہ خاندانوں نے شمالی سیناء میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران چار افسران کی ہلاکت اور ایک شہری کے زخمی ہونے کا ذمّے دار قطر کو ٹھہرایا ہے۔

مقدمے میں اٴْن عدالتی فیصلوں کو بنیاد بنایا گیا ہے جن سے سیناء میں دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ کے ساتھ قطر کے تعلق کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ بات مدعی خاندانوں کے وکیل ایڈوکیٹ حافظ ابو سعدہ نے "بی بی سی" کی ویب سائٹ کو بتائی۔ باجود یہ کہ مصر کا قانون مقدمے بازی کا حق دیتا ہے عدالت میں مقدمے کا اندراج سپریم جوڈیشل کی آراء کے سروے کے بعد ہی ہو گا۔

(جاری ہے)

مقدمے کی درخواست میں دہشت گردی کے خلاف برسرِ جنگ چاروں ممالک کی جانب سے جاری فہرست کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور اس میں اٴْن شخصیات اور اداروں کو شامل کیا گیا جن کو قطر کی جانب سے پناہ اور سپورٹ حاصل ہے۔مدعی فریق کا کہنا ہے کہ قطر کا الاخوان المسلمین کے بعض ارکان کو پناہ دینا اور انہیں مصر کے حوالے نہ کرنا جب کہ ان کا مصر میں مرتکب جرائم میں ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے ، یہ قطر کو قصور وار ٹھہرانے کے لیے کافی ہے۔

مقدمہ دائر کرنے والے مدعین اٴْن چار افسران کے والدین ہیں جو شمالی سیناء میں مسلح افراد کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک مصری شہری سر میں گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا جس کے علاج کے اخراجات مصری فوج نے برداشت کیے۔ایڈوکیٹ ابو سعدہ کا کہنا ہے کہ قطر کی حکومت اس امر کی ذمّے دار ہے کہ وہ اپنے اٴْن غیر قانونی افعال کا ہرجانہ ادا کرے جو مصر کے سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے دہشت گرد کارروائیوں کی فنڈنگ کی صورت میں تھے۔

عدالت نے مقدمے کی اولین سماعت کے لیے رواں برس 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ البتہ اپیل کورٹ کی جانب سے قطر پر ہرجانہ کی ادائیگی کا فیصلہ جاری ہونے کی صورت میں یہ فیصلہ حتمی اور واجب العمل ہو گا۔اگر عدالتی فیصلے میں قطر کو ہرجانہ ادا کرنے کا پابند بنایا گیا تو مصری حکومت ہرجانے کی رقم کے لیے قطر کی بعض املاک کو ضبط کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ قطر کی مصر میں پراپرٹیز اور اراضی موجود ہے۔