شہری بسیار خوری سے پرہیز کریں ، زیادہ کھانا بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے ‘ڈاکٹراسرار الحق طور

رمضان المبارک کے بعد یکدم معدے پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے ،دوائیوں کے علاوہ پرہیز کی زیادہ اہمیت ہے کولڈ ڈرنکس اور مصنوعی مشروبات کا استعمال بھی تیزابیت اور گیسڑو کاا باعث بن سکتا ہے‘ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن جنرل ہسپتال

منگل جون 18:50

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) رمضان المبارک کے بعد کھانے پینے میں اعتدال سے کام لینا چاہیے اور ایک ماہ کے روزوں کے بعد معدے پر فوری طور پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے ۔لاہور جنرل ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر اسرار الحق طور نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو بسیار خوری سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے شوگر ، بلڈ پریشر ،کولیسٹرول اور امراض قلب کے مریضوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے معمول میں ایک دم تبدیلی انسانی جسم کو متاثر کر سکتی ہے اور مریضوں کو اس ضمن میں خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ڈاکٹراسرار الحق طور نے کہا کہ دوائیوں کے استعمال کے علاوہ پرہیز کی زیادہ اہمیت ہے او ر کھانے پینے میں اعتدال نہ برتنے کے مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عید الفطر کے دنوں میں بھی زیادہ کھانے کے متعدد مریضوں نے ہسپتالوں کا رخ کیا ہے اور اب عید کے بعد کے دن بھی اہمیت کے حامل ہیں جن میں کھانے پینے بالخصوص چٹ پٹے اور مرغن پکوانوں سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ کسی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

ڈاکٹر اسرار الحق طور کا کہنا تھا کہ کولڈ ڈرنکس اور مصنوعی مشروبات کا استعمال بھی تیزابیت اور گیسڑو کاا باعث بن سکتا ہے جس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔اسی طرح والدین کو اپنے ساتھ ساتھ بچوں کے کھانے پینے پر بھی نگاہ رکھنی چاہیے اور انہیں بازاری کھانوں سے دور رکھیں۔