عوامی نیشنل پارٹی نے عام انتخابات کیلئے اپنے منشور کا اعلان کردیا

منشور میں امن و سلامتی کو سرفہرست رکھا گیاہے ، اردو انگریزی اور چینی زبان کو مضمون کی بجائے زبان کے طور پر پڑھایا جائے گا پانچ سال سے سولہ سال عم کے بچوں کو مفت تعلیم دیں گے،جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی میاں افتخارحسین کی پریس کانفرنس

منگل جون 18:50

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی نے عام انتخابات کیلئے اپنے منشور کا اعلان کردیا۔انتخابی منشور میں امن و سلامتی کو سرفہرست رکھا گیاہے ، اردو انگریزی اور چینی زبان کو مضمون کی بجائے زبان کے طور پر پڑھایا جائے گا،پانچ سال سے سولہ سال تک کے عمر کے بچوں کو مفت تعلیم دئیے جائینگے۔باچاخان مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین کاکہنا تھا کہ لوگ سو دن کے لیے منشور پیش کرتے ہیں ہم نے پانچ سالوں کے لیے پیش کردیا۔

سپریم کورٹ کو آئینی مسائل میں الجھانے کی بجائے علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کرینگے دعوہ کرتے ہیں کہ اے این پی کی طرح منشور کسی پارٹی کے پاس نہیں ہے۔ انتہاپسندی فرقہ پرستی اور دہشت گردی جیسے عوامل کی بنیادی وجوہات پر توجہ دیناہوگا ۔

(جاری ہے)

انتخابی منشور میں امن و سلامتی کوبھی سرفہرست رکھا گیا ہے۔منشورمیں یہ بھی لکھا ہے ملکی سالمیت کی خلاف ورزی کی کھل کر مخالفت کی جائے گی معقول بنیادوں پر آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل کے لئے کوشش کی جائے گی ۔

نیکٹا کی صلاحیتوں میں اضافہ کے لئے کوشش ،دہشت گردی سے متاثرہ افراد کے لئے انشورنس پلان ترتیب دیا جائے گا۔منشورمیں یہ بھی تحریرکیا گیا ہے کہ ہرضلع میں جوڈیشل کمپلیکس ،خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بااختیاربنانے سمیت خواتین کو ملازمتوں کے یکساں مواقع دئے جانے کا عزم کررکھا ہے جبکہ اضلاع کی سطح پر ایک یونیورسٹی اور صوبائی حلقے میں کالج بنایا جائے گاپرائمری تعلیم کی مالی اور انتظامی معاملات مقامی حکومتوں کے سپرد صحت کے لئے جی ڈی پی کا چھ فیصدبجٹ مختص کیا جائے گاکھیلوں کے حوالے سے تمام اضلاع میں سپورٹس کمپلیکس بنائے جائینگے تاہم فاٹا میں مقامی سیکورٹی کو پولیس میں ضم کرنے سمیت قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر سی پیک میں شامل کرناہوگا،،،منشور کے مطابق تمام خارجی اور پڑوسیوں ممالک کیساتھ تعلق کو خوشگوار بنانے سمیت افغانستان کیساتھ مزید دس راہداریاں مقامی تجارت کے لیے کھول دیناکا عزم بھی رکھا گیا ہے،جبکہ تمام اداروں کا احتساب بھی تحریر کیا گیا ہے۔

۔