ووٹرز کی تفصیلات لیکس کا معاملہ ،نادرا حکام نے تمام الزامات کی تردید کر دی

مر یم نواز کی چیئر مین نادرا سے ملا قات کی خبر سرا سر جھو ٹ پر مبنی ہے،ہر سال نادرا کا آ ڈٹ کیا جاتا ہے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ الیکشن کے وقت جھوٹے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، دہری شہریت اور اوور سیز ووٹنگ کے بارے کیسز میں سپریم کورٹ نے ہمارے ادارے کی تعریف کی،۔ڈی جی نادرا ذوالفقار علی اور دیگر کی مشترکہ پریس کانفرنس

منگل جون 19:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) نادرا حکام نے شہریوں کا ڈیٹا لیکس ہونے سے متعلق تمام الزامات کی تردید کر تے ہو ئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہ نما مر یم نواز کی چیئر مین نادرا سے ملا قات کی خبر سرا سر جھو ٹ پر مبنی ہے، چیئر مین نادار با صلا حیت اور با عز ت شخص ہیں،ہر سال نادرا کا آ ڈٹ کیا جاتا ہے۔منگل کو نادرا کے 4 ڈائریکٹر جنرلز کا مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی بھی ایک شہری کا ڈیٹا کسی بھی پلیٹ فارم سے شیئر نہیں کیا گیا۔

ڈی جی نادرا ذوالفقار علی کا کہنا تھا کہ آج تک نادرا کی تاریخ میں کوئی ڈیٹا لیک نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ کرپشن پرنکالے گئے سابق افسر سید مظفر کی طرف سے الزامات عائد کیے گئے اور ایک سال قبل ایک انٹرنل ای میل ایک ٹی وی پر چلائی گئی۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ کسی بیان کی تردید کر رہے ہیں اور نہ تصدیق، اس ای میل کا ڈیٹا لیک ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذوالفقار علی نے کہا کہ انٹرنیٹ ووٹنگ کی پریزنٹیشن خود سید مظفر علی دینے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ الیکشن کے وقت جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی دہری شہریت والے ادارے میں ہیں ان سے متعلق عدالت کو بتایا گیا۔ دہری شہریت کیس میں سپریم کورٹ نے ہمارے اقدامات کو سراہا، اوور سیز ووٹنگ کے بارے میں بھی سپریم کورٹ نے ہمارے ادارے کی تعریف کی۔

ڈی جی نادرا نے کہا کہ ہر سال ادارے کا آڈٹ کیا جاتا ہے اور ہم الیکشن کمیشن کو وضاحت دے چکے ہیں کہ کسی ایک بھی شہری کا ریکارڈ کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی ساکھ کے لیے جو بھی اقدامات اٹھانے پڑے اٹھائیں گے۔وا ضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے ڈی جی نادرا پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے شہریوں کا ڈیٹا لیک کیا تھا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو ایک خط بھی تحریر کیا جس میں انہوں نے ڈی جی نادرا پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی میں شفاف الیکشن ممکن نہیں اس لیے انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے بھی نادرا حکام کو خط لکھ کر اس معاملے پر وضاحت طلب کی تھی۔