چین ، افغانستان میں امن اور مفاہمت کی مکمل حمایت کرتا ہے ،تمام فریقین اپنے تنازعات دو طرفہ بات چیت اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کریں ،افغان صدر کی امن کوششیں قابل تعریف ہیں ، ، توقع ہے فریقین کے درمیان جنگ بندی کا اعلان معاملے کو مفاہمت کی طرف لے جائے گا ، فرانس سمیت تمام یورپی ممالک کو بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شو آنگ کی پریس کانفرنس

منگل جون 19:30

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) چین افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے ملک میں امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتا ہے اور اس توقع کا اظہار کرتا ہے کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کا اعلان مفاہمت کی طرف لے جائے گا ۔ ہم نے اس بات کو خاص طور پر محسوس کیا ہے کہ افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ جنگ بندی کے مسئلہ پرمذاکرات آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شو آنگ نے باقاعدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ ترجمان نے کہا کہ ہم افغان تنازعہ کے تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ مذاکرات اور سیاسی بات چیت کے ذریعے اندرونی مفاہمت اور امن کو کامیاب بنائیں ۔ چین امن اور مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور وہ افغانستانمیں جلد از جلد امن کے قیام کے لئے تعمیری کردار ادا کرنے کاخواہش مند ہے ۔

(جاری ہے)

فرانسیسی سینٹ کی طرف سے شاعء ہونے والی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے جس میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شرکت کی خواہش ظاہر کی گئی ہے ترجمان نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ ایک کھلا اور بے مثال بین الاقوامی تعاون کا منصوبہ ہے ۔ یہ آپس کی مشاورت ، مشترکہ تعمیر اور مساوی فوائد پر مبنی ہے ۔ شریک ممالک اس میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

خاص شعبوں میں تعاون کے لئے ہم تمام فریقین کی سہولت کے لئے توجہ دیتے ہیں ۔ کھلے پن ، شفافیت ، عالمی معیار اور روابط کو برقرار رکھنے پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ ہم بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کے طریقہ کار میں رہ کر فرانس سمیت یورپی ممالک کے ساتھ تعاون کے خصوصی شعبوں میں بات چیت کرنے کے خواہش مند ہیں ۔ جن میں موثر رابطے ، ترقی کی حکمت عملی اور اعلیٰ سطح پر دو طرفہ اعتماد کا حصول شامل ہے ۔