سیلاب کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے ضلع سرگودہا میں ریلیف کیمپ قائم کرنے کیلئے انتظامات شروع کردیئے گئے

منگل جون 19:30

سرگودہا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) پنجاب حکومت کی ہدایات پرموسم برسات کی آمد سے قبل سیلاب کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے ضلع سرگودہا میں چار سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 16 سب سیکٹر ریلیف کیمپ قائم کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ نے انتظامات شروع کردیئے گئے ہیں ضلع سرگودھا کے دونوں دریاؤں کے کنارے حساس آبادیوں کی نشاندہی کر کے انہیں ایک اے او ربی کیٹیگری میںتقسیم کر دیاگیاہے ۔

تاہم سیلاب سے بچاو اور امدادی سامان کم ہونے سے انتظامیہ کو مشکلات کاسامناہے ۔ضلع سرگودہا میں قبل ازیں 1992 ‘ 1997 ‘ 2010 ‘ 2014 میں اونچے درجے کے سیلاب کی وجہ سے غیر معمولی نقصانات ہوئے ۔جن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیںانتظامیہ ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے پاس اس وقت صرف گیارہ کشتیاں ‘ 18 ڈی واٹرنگ سیٹس ‘ 358 لائف جیکٹس ‘ 48لائف رنگ ‘ دو لائف لائن ‘ 9فسٹ ایڈ کٹس ‘ چھ ریسکیو او رچھ ریسکیو بیگ، سات ایمبولینس ‘ سات فائر برگیڈ ‘ نو واٹر ٹینک ‘ چار ہائیڈلالک کٹر ‘ پانچ لیڈر اور تیرہ ٹریکٹر ٹرالیاں موجود ہیں جو کہ آبادی کے لحاظ سے کم ہیں مزید سامان کی فراہمی کیلئے حکومت کو لکھادیاگیا ہے ۔

(جاری ہے)

ضلعی ترجمان کے مطابق برسات کے دوران دریائے جہلم پر بھیرہ ‘ شاہپور او رساہیوال تحصیلوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورت میں 91دیہات ‘ اونچے درجے کے سیلاب کی صورت میں 128 دیہات جبکہ غیر معمولی اونچے درجے کے سیلاب کی صورت میں 167 دیہاتوں کی دو لاکھ 58 ہزار سے زائد آبادی متاثر ہو سکتی ہے ۔ جبکہ سیلاب کی صورت میں دریائے چناب پر تحصیل کوٹ مومن کے پندرہ دیہات جبکہ انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے نتیجے میں چالیس دیہات خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔

متعلقہ عنوان :