جنوبی کوریا کی کمپنی کا ضلع کوہستان میں 496میگاواٹ پن بجلی کے منصوبے میںسرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار

حکومت خیبرپختونخوا کے باہمی تعاو ن سے منصوبہ شروع کرنے اور آئندہ چند روز میں معاہدہ کرنے کا فیصلہ

منگل جون 19:50

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) توانائی کے شعبے میںحکومتی سطح پر کام کرنے والی جنوبی کوریا کی کمپنی نے خیبرپختونخواکے ضلع کوہستان میں 496میگاواٹ سپاٹ گاہ پن بجلی کے منصوبے میںسرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہارکرتے ہوئے حکومت خیبرپختونخوا کے باہمی تعاو ن سے منصوبہ شروع کرنے اور آئندہ چند روز میں معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

توانائی کے مذکورہ منصوبے سے صوبے میںایک طرف اربوں روپے کی سرمایہ کاری آئے گی جس سے دوسری طرف روزگارکے نئے مواقع میسرآئیں گے اورسستی بجلی کی پیداوارسے ملک کوموجودہ توانائی بحران سے نکالنے میں مدد ملے گی۔اس سلسلے میںسرکاری سطح پر توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کورین ہائیڈرواینڈ نیو کلیر پاورکمپنی کے نائب صدر جنگ بیونگ سو کی قیادت میںکوریاکے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سیکرٹری توانائی وبرقیات محمد سلیم خان سے اجلاس منعقدکیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسرپیڈوانجینئرذین اللہ شاہ،پلاننگ آفیسرمحکمہ توانائی انجینئر وقاص احمداوردیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ اس سے پہلے سپاٹ گاہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ سال 2012ء میںپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپPP) (Pموڈ کے ذریعے شروع کیا گیا تھا جس میں74فیصدپرائیویٹ سرمایہ کاری ،25فیصدخیبرپختونخواحکومت کاحصہ تھا اور1فیصدواپڈاکا حصہ تھا اورایک مفاہمتی یاداشت پر بھی دستخط کئے گئے تھے تاہم 2014ء تک اس منصوبے پر کام شروع نہ کیا جاسکا۔

اس سلسلے میں کورین کمپنی نے براہ راست سرمایہ کاری کے ذریعے خیبرپختونخواحکومت کے تعاون سے 496میگاواٹ سپاٹ گاہ پن بجلی کا منصوبہ شروع کرنے میںدلچسپی ظاہر کی ہے ۔اس موقع پر سیکرٹری توانائی وبرقیات محمد سلیم خان نے کورین سرمایہ کار وفد کوبتایاکہ خیبرپختونخواحکومت کورین کمپنی کی جانب سے ضلع کوہستان میں پن بجلی کا منصوبہ شروع کرنے کا خیرمقدم کرتی ہے تاہم منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کے سلسلے میںباقاعدہ معاہدہ کرنے اور حکومتی فیصلہ لینے کے لئے تجاویز مرتب کی جائیں گی۔

انہوں نے کورین سرمایہ کاروفد کو یقین دلایا کہ آئندہ چند روز میں جنرل الیکشن کے بعد بننے والی نئی حکومت کے سامنے اس منصوبے کو شروع کرنے کے بارے میں پروپوزل پیش کیاجائے گا اورفیصلے کے بعد ہی اس منصوبے پر عملی کام شروع کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منصوبے سے صوبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری آئے گی اورروزگارکے نئے مواقع میسرہونگے۔