کراچی چیمبر کا روپے کی قدر میں مسلسل کمی پر اظہار تشویش

منگل جون 20:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر مفسر عطاء ملک نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منگل کے روز ڈالر 122روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جسے کنٹرول کرنے کے اشد ضرورت ہے بصورت دیگر اس کے پہلے سے ہی کمزور معیشت پر تباہ کن اثرات ہوں گے ۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت نے 6 ماہ کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں تیسری مرتبہ کمی کی ہے اور روپیہ مسلسل گرواٹ کا شکار ہے جس سے خدشہ ہے کہ ملک کو بیل آؤٹ پیکیج کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ڈرہے کہ ملک کے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی روپیہ اگلے چند ماہ میں مزید گراوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

ماضی میں اس طرح کے روپے کی گراوٹ سے اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا جو کئی سال تک جاری رہا لہٰذا ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جو ماضی میں ناکام ہوچکے ہوں۔ پاکستان جیسے ملک میں میں کرنسی کی گراوٹ معیشت پر طویل عرصے تک منفی اثرات مرتب کرنے کا باعث بنتی ہے۔مفسر ملک نے مزید کہا کہ اگرچہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے برآمدکنندگان وقتی طور پر خوش ہوں گے اور ملکی معاشی اعداد شمار برآمدات میں بہتری ظاہر کریں گے تاہم یہ بہتری صرف ڈالر کی قدر کے باعث ہو گی جبکہ برآمدات کا حجم وہی رہے گا۔حقیقت یہ ہے کہ کاروباری لاگت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے دنیا کے کئی حصوں میں ہماری برآمدات تیزی کم ہورہی ہے ۔