ٹکٹوں کی مبینہ غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کارکنوںکا احتجاج دوسرے روز جاری

رات بنی گالہ میں گزاری ،صبح ہوتے ہی دوبارہ احتجاجی سلسلہ شروع ، آپس میں تلخ کلامی اور دھکم پیل پولیس کی بھاری نفری نے عمران خان کے گھر کو گھیرے میں لے لیا ، خاردار تاریں بھی بچھا دی گئیں

منگل جون 21:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارلیمانی بورڈز کے اجلاس میں ٹکٹوں کی مبینہ غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کارکنوںکا احتجاج دوسرے روز (منگل کو) بھی جاری رہا ،،پنجاب اور کے پی کے سے آنے والے کارکنوں نے رات بنی گالہ میں گزاری جبکہ صبح ہوتے ہی احتجاجی سلسلہ شروع کردیا گیا اس دوران کارکنوں کی آپس میں تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی دوسری جانب پولیس کی بھاری نفری نے عمران خان کے گھر کو گھیرے میں لے لیا جبکہ خاردار تاریں بھی بچھا دی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف کے پی کے اور پنجاب کے مختلف شہروں بشمول ملتان ، منڈی بہاوالدین،اوکاڑہ،اپر دیر،گجرات ، گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں سے کارکنوں کی کثیر تعداد بنی گالہ پہنچ گئی اور دھرنا دے دیاہے ،اس دوران عمران خان کے گھر کے باہر ملتان کے کھلاڑی آپس میں لڑ پڑے ،ٹکٹ کے امیدوار ملک احمد حسین ڈیہڑ کے حامیوںکے درمیان احتجاجی کیمپ میں لڑائی اور دھکم پیل ہوئی ، ذرائع نے بتایاکہ یہ لڑائی بیٹھنے کی جگہ پر ہوئی جبکہ صبح کے وقت چائے تقسیم کرنے کے ایشو پر بھی معمولی تلخ کلامی ہوئی تھی،اس دوران عمران خان کی طرف سے اسلام آباد انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا جس پر اسسٹنٹ کمشنر کی طرف سے دھرنا مظاہرین سے عمران خان سے ملنے والوں کے نام مانگ لئے گئے ملاقات کی دعوت ملنے پردھرنا مظاہرین نے ملک احمد حسین دیہٹر کو پہلی پرواز سے ملتان سے واپس اسلام آباد آنے کی ہدایت کردی۔

(جاری ہے)

اس دوران اپر دیر کے حلقہ پی کے 12 نوید شاہین کے ٹکٹ کے مطالبے کے لئے بھی کارکنان پہنچ گئے۔اپر دیر کے کارکنان نوید انجم کو ٹکٹ نہ دینے کا مطالبہ کررہے تھے انہیں پہلے تو عمران خان چوک پر ر وکا گیا بعد ازاں بیرئر تک آنے کی اجازت دے دی گئی ،اس دوران اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی رہائش گاہ پر آنے والے چوک کو ہی بند کردیا اور احتجاج کے لئے آنے والوں کو پہاڑی چوٹی کے نیچے ہی روک دیا گیا ۔

عمران خان کے گھر کے اندرونی گیٹ کے باہر بیرونی گیٹ اور عمران خان چوک میں کارکنوں کی کثیرتعداد موجود تھی ۔ اوکاڑہ سے پی ٹی آئی کی رہنما شازیہ احمد نوازبھی احتجاج کرنے بنی گالہ پہنچ گئی ،میڈیاسے بات کرتے ہوئے شازیہ نواز کا کہنا تھاکہ پارٹی کے ساتھ 10 سال خدمات انجام دیں،مخصوص نشست پر ٹکٹ کے لیے درخواست دی، نظر انداز کردیاگیاہے۔ حلقہ پی پی 188 اوکاڑہ سے درخواست دینے پر بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا،شازیہ نوازنے بتایاکہ ریٹائرڈ میجر کی بیوی ہوں، پارٹی تقاریب، جلسوں سمیت ہرجگہ پارٹی کا ساتھ دیا، ٹکٹ لے کر جاوں گی، شازیہ نواز نے کہاکہ عمران خان سے مخصوص نشست یا پھر حلقہ پی پی 188 سے ٹکٹ دینے کی درخواست کرتی ہوں،،شاہ محمود،، چوہدری سرور اور رائے حسن نواز میری عمران خان تک رسائی یقینی بنائیں۔

واضح رہے الیکشن کی آمد آمد ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم کے الزام پر عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہاہے۔۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے کہنے پر گجرات منڈی بہاولدین گوجرانوالہ والے تو ان کی بات مان کر چلے گئے لیکن ملتان اور اپر دیر والوں کا احتجاج جاری ہے ،اس دوران پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے کارکنوں کو خودمنانے کی اطلاعات تو آئیںتاہم آخری اطلاعات تک وہ منگل کے روز کارکنوں کو منانے باہر نہیں آئے تھے۔

دوسری جانب عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائی کیمپ بھی جاری ہے اور کیمپ کے شرکاکا کہنا تھا کہ عمران خان ڈاکٹر عافیہ کوواپس لانے کا وعدہ منشور میں شامل کریں اور عافیہ صدیقی کو انصاف دلائیں ۔ اس موقع پر کیمپ کے شرکانے انصاف کرو انصاف کرو، عمران خان انصاف کرو ،کے نعرے بھی لگائے۔