ابو ظہبی:امارات میں مقیم افراد مکان کرایہ پر لیتے وقت ہوشیار رہیں

خود کو مالک مکان ظاہر کر کے کرایہ داروں سے رقم ہتھیانے کے درجنوں کیسز سامنے آ گئے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 11:34

ابو ظہبی:امارات میں مقیم افراد مکان کرایہ پر لیتے وقت ہوشیار رہیں
ابو ظہبی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔20جُون 2018ء) گزشتہ سات ماہ کے دوران ریئل اسٹیٹ فراڈ میں 30 سے زائد افراد دھوکا دہی کا نشانہ بنے ہیں۔ ابوظہبی کی کریمنل کورٹ میں اس حوالے سے مختلف مقدمے دائر کیے گئے ہیں جن میں کرایہ داروں اور مکان مالکان کو ریئل اسٹیٹ ڈیلرز اور بروکرز کی جانب سے دھوکا دیا گیا تھا۔ کچھ ایسے کیسز تھے جن میں ڈیلروں نے مکان مالکان کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ اُنہیں اپنے گھروں کو سالانہ کنٹریکٹ کے تحت لیز پر دے دیں ۔

ڈیل کے تحت ڈیلروں کی جانب سے اُنہیں بینک کے پیشگی چیکس بھی دیئے گئے جو کہ کرایہ داروں کی جانب سے اپارٹمنٹ کرایہ پر لینے کے بعد کیش ہونے تھے۔ مگر گھروں کو کرایہ پر دینے کے بعد کرایہ داروں سے رقم بٹور کر‘ ریئل اسٹیٹ ڈیلر اور بروکرز مکان کے مالکان کو رقم دیئے بغیر ہی غائب ہو گئے ۔

(جاری ہے)

جب مکان مالکان نے چیکس کو کیش کروانے کی کوشش کی تو چیک باؤنس ہو گئے۔

اس موقع پر مالکان کو احساس ہوا کہ اُن کے ساتھ ڈیلروں نے دھوکا کیا ہے۔ اس بارے میں مکان مالکان کا کہنا تھا کہ اُن کے گھروں کو کرائے پر چڑھانے والے ڈیلروں نے اپنے موبائل فونز سوئچ آف کر دیئے ہیں۔ جبکہ کچھ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں‘ جن میں پراپرٹی ڈیلروں نے خود کو اماراتی شہری ظاہر کر کے مالکوں کے خالی وِلاز اور اپارٹمنٹس کی چابیاں لے لیں اور پھر انہیں غیر قانونی طور پر ایک سے زیادہ کرائے داروں کے حوالے کر دِیا۔

یہ ڈیلرز جن کے اپنے دفاتر بھی نہیں تھے‘ کرایہ داروں سے رقم وصول کرنے کے بعد فرار ہو گئے اور ان کے موبائل فون بھی بند جا رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے متعدد فراڈیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ کچھ کو ابو ظہبی کی عدالتوں نے سزا سُنانے کے بعد جیل بھیج دیا ہے۔ ایک کیس ایسا بھی سامنے آیا جس میں چار عرب افراد نے خود کو مکان مالک ظاہر کر کے مختلف افراد سے کرایہ داری کی مد میں دو لاکھ اماراتی درہم ہتھیا لیے‘ یہاں تک کہ انہیں جعلی کرایہ نامہ بھی بنا کر دِیا۔

جب متاثرہ افراد مکان پر رہائش اختیار کرنے پہنچے تواُنہیں پتا چلا کہ اس مکان میں پہلے سے ہی کوئی خاندان کرایہ پر رہائش پذیر ہے۔ تب اُنہیں احساس ہوا کہ اُن کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔۔عدالت نے ان چار عرب افرادکو چھ چھ مہینے کے لیے جیل بھیج دِیا گیا۔ ابو ظہبی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل علی ال خواجہ کا کہنا تھا کہ کئی جعلی پراپرٹی ڈیلر جن کا اپنا کوئی دفتر بھی نہیں ہوتا‘ وہ لوگوں کی مکان کرائے پر دینے یا لینے کے طریقہ کار سے لاعلمی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دھوکا دہی کا ارتکاب کر جاتے ہیں۔