پی ٹی آئی چئیرمین کے وکیل کی ایک غلطی کی وجہ سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے

پچھلے پانچ سالوں کی کارگردگی سے متعلق سوال پر عمران خان کے وکیل نے کاغذات نامزدگی میں کوئی مناسب جواب نہیں لکھا حالانکہ اسے تو عمران خان کی سیاسی خدمات بتاتے ہوئے پانچ چھ اضافی صفحے لگانے چاہئیے تھے، معروف صحافی رؤف کلاسرا کاتبصرہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ جون 11:54

پی ٹی آئی چئیرمین کے وکیل کی ایک غلطی کی وجہ سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 جون 2018ء) : گزشتہ روز عام انتخابات 2018 کے لیے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،، پی ٹی آئی کی منحرف رکن عائشہ گلالئی اور مسلم لیگ (ن) کے رکن سردار مہتاب عباسی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے بھی حلقہ این اے 53 سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔

اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئےمعروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ اس بندے کی نالائقی کو داد دینی چاہئیے جس نے عمران خان کا فارم فل کیا۔کیونکہ یہ عمران خان کا فارم فل کرنے والے کی غلطی ہے ،اس کی و جہ سے عمران خان کو ایک بار پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی فل کرنے والے کو اتنی عقل نہیں ہے کہ وہ سوالوں کے جواب ٹھیک سے لکھ دسکے۔

(جاری ہے)

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ عمران خان سے سوال پوچھا گیا تھا کہ پچھلے پانچ سال آپ ایم این اے رہے ہیں تو آپ نے کیا خدمات سر انجام دی ہیں؟۔اس سوال کا جواب عمران خان کا فارم فل کرنے والے وکیل نے ایسا دیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے اس پر کانٹا مار دیا۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کاغذات نامزدگی میں تو پانچ چھ اضافی صفحے لگانے چاہئیے تھے اور بتانا چاہئیے تھا کہ عمران خان یہ یہ کام کیا ہے۔

کیونکہ پچھلے پانچ سالوں میں عمران خان سپریم کورٹ گئے انہوں نے پانامہ کیس لڑا،انہوں نے لوگوں میں سیاسی شعور پیدا کیا۔عمران خان نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔اور بل بھی منظور کروائے۔کیونکہ ایک ایسا شخص جو اپنے آپ کو ملک کا اگلا وزیراعظم سمجھتا ہو وہ کاغذات نامزدگی میں یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے پچھلے پانچ سالوں میں کوئی کام نہیں کیا۔مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کیجئے: