غریبوں کی ”نمائندہ“جماعت کے ارب پتی قائدین

آصف زرداری 6 بلٹ پروف لگژری گاڑیوں، دبئی میں ہزاروں ایکٹر پر مشتمل پراپرٹی اور زرعی اراضی کے مالک ہیں۔کاغذات نامزدگی میں ظاہرکی گئی تفصیلات

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جون 13:19

غریبوں کی ”نمائندہ“جماعت کے ارب پتی قائدین
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 جون۔2018ء) ملک میں غریبوں کی جماعت ہونے کی دعویدار پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری 6 بلٹ پروف لگژری گاڑیوں، دبئی میں ہزاروں ایکٹر پر مشتمل پراپرٹی اور زرعی اراضی کے مالک ہیں۔کاغذات نامزدگی کے ساتھ منسلک اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق آصف علی زرداری کو اسلحہ،، گھوڑے اور لائیو اسٹاک کا شوق ہے جس پر انہوں نے اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق آصف علی زرداری کے پاس متحدہ عرب امارات کا اقامہ بھی ہے اور پاکستان میں ایک درجن سے زائد پراپرٹی کے مالک ہیں جبکہ مقتول بے نظیر بھٹو کی 5 پراپرٹیز میں شیئرز بھی ہیں۔ ظاہر کردہ اثاثہ جات میں بتایا گیا کہ وہ بیرون ملک دبئی میں الصفا میں ایک خالی پلاٹ کے مالک ہیں اور 10 کروڑ روپے میں خریدا گیا تھا۔

(جاری ہے)

آصف علی زرداری کے اثاثوں کی کل مالیت 75 کروڑ 86 لاکھ روپے بنتی ہے جس میں آدھی جائیداد کے مالک ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری ہیں۔پی پی پی کے شریک چیئرمین کے پاس 3 ٹویوٹا لینڈ کروزر، 2 بی ایم ڈبلیو اور ایک ٹویوٹا لیکسس ہے اور تمام مذکورہ گاڑیاں بلٹ پروف ہیں۔اثاثہ جات کی تفصیلات کے مطابق لاتعداد گھوڑوں اور کیٹل کی کل ملکیت 9 کروڑ روپے جبکہ ان کے پاس موجود اسلحہ کی قیمت 1 کروڑ 60 لاکھ روپے بتائی گئی۔

آصف علی زرداری نے بتایا کہ انہوں نے 1 کروڑ 29 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ‘لینڈ مارکس’ میں کی ہے جبکہ 8 لاکھ 90 ہزار روپے کی سرمایہ کاری آصف اپارٹمنٹ (ہما ہائیٹس) میں کی۔انہوں نے کاغذات نامزدگی میں بتایا کہ وہ پاکستان سے باہر کسی بزنس کے مالک نہیں ہیں۔سابق صدر کے مطابق زرداری گروپ (پرائیوٹ) لمیٹڈ اور پارک لین ای اسٹیٹ (پرائیوٹ) لمیٹڈ میں صرف 10 لاکھ 7 ہزار روپے کی سرمایہ کی ہے جبکہ زرداری گروپ کو 45 لاکھ روپے ادھار دیئے ہیں۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ان کے پاس 20 کروڑ 90 لاکھ روپے نقدی موجود ہیں جبکہ سلک بینک میں 8 کروڑ 97 لاکھ روپے اور سندھ بینک لاڑکانہ برانچ میں 1 ہزار روپے جمع ہیں۔۔آصف علی زرداری کے پاس کلفٹن میں 2 پراپرٹی ہے جس کی مالیت 11 کروڑ 15 لاکھ روپے بتائی گئی جبکہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کراچی میں 2 ہزار گز کا بنگلہ 8 لاکھ 50 ہزار روپے میں خریدا گیا اور نواب شاہ میں ایک گھر ہے جس کی قیمت 2 کروڑ 25 لاکھ روپے ہے۔

نواب شاہ، لاڑکانہ، ٹنڈوالہیار میں زرعی زمین کے مالک ہیں جبکہ نواب شاہ، ماتلی، بدین، ٹنڈوالہیار میں مجموعی طور پر تقریباً 7 ہزار 400 ایکڑ زرعی اراضی لیز پر حاصل کی گئی ہے۔اپنے والد کی طرح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی ارب پتی ہیں جن کی پاکستان اور بیرون ملک درجن بھر پراپرٹیز ہے اور دبئی اور برطانیہ میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے فراہم کردہ اثاثہ جات تفصیلات میں بتایا گیا کہ ان کے پاس 5 کروڑ روپے نقد موجود ہیں جبکہ بینک اکاﺅنٹس میں 1 کروڑ 38 لاکھ روپے جمع ہیں تاہم ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں۔۔بلاول بھٹو زرداری کے پاس متحدہ عرب امارات کے 2 اقامے موجود ہیں جبکہ کلفٹن، کراچی بلاول ہاﺅس کی ملکیت 30 لاکھ روپے بتائی گئی۔ ان کے پاس دبئی میں ویلاز ہیں جو ایک انہیں بطور تحفہ ملا جبکہ ایک کے مالک ہیں۔

اثاثہ جات کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری کے پاس ملک بھر میں مجموعی طور پر 20 رہائشی، کمرشل اور زرعی پراپرٹی ہیں جو بیشتر ان کے والدین، دادا اور دیگر کی جانب سے تحفے میں دی گئی۔اس کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری کے پاس ان کی والدہ کی جانب سے تفویض کردہ 12 لاکھ روپے کے بانڈز ہیں جبکہ زرداری گروپ اور پارک لین ای اسیٹ میں 11 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔۔دبئی میں 22 اور برطانیہ میں ایک سرمایہ کاری کی گئی جو زیادہ تر ان کی والدہ نے تحفے میں دی۔ان کے پاس 30 لاکھ روپے مالیت کا اسلحہ جبکہ فرنیچر اور دیگر روز مرہ کے استعمال کی چیزوں کی مالیت 30 لاکھ روپے بتائی گئی۔