سپریم کورٹ کا 15 دن میں آئل ٹینکرز ذوالفقار آباد ٹرمینل منتقل کرنے کا حکم

دن بعد کوئی ٹینکر شیریں جناح کالونی میں کھڑا نہیں ہوگا اور آئل ٹینکر والوں نے ہڑتال کی تو سب کو اندر کردیں گے‘آئل ٹینکرز والوں کے پاس ہر قسم کی حجت ہے، خدا کا خوف کریں کچھ حب الوطنی پیدا کریں‘ چیف جسٹس کے ریمارکس

بدھ جون 13:39

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) سپریم کورٹ نے آئل ٹرمینل کو 15 روز میں شیریں جناح کالونی سے ذوالفقار آباد منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں آئل ٹینکرز کی ذوالفقار باد ٹرمینل منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں میئر کراچی وسیم اختر اور آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے میئر کراچی سے استفسار کیا کہ میئر صاحب، کتنے نالوں کی صفائی ہوچکی بتائیں کس نالے کا دورہ کرارہے ہیں اس پر وسیم اختر نے کہا کہ سر نہر خیام چلتے ہیں۔وسیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل کا ایک سال قبل افتتاح ہوچکا، آئل ٹینکر مالکان جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

مئیر کراچی کے جواب پر صدر ٹینکرز ایسوسی ایشن یوسف شہوانی نے مؤقف اپنایا کہ ہم جانے کے لیے تیار ہیں، میئر جھوٹ بول رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے یوسف شہوانی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا میئر ہے، عزت سے بات کریں۔یوسف شہوانی نے عدالت کو بتایا کہ 200 ایکڑ میں سے ہمیں صرف 130 ایکڑ اراضی دی گئی، اس پر چیف جسٹس نے وسیم اختر سے پوچھا کہ کام مکمل کیوں نہیں ہوا میئر کراچی نے بتایا کہ کام مکمل ہوچکا ہے، چاہیں تو ناظر سے معائنہ کرالیں۔۔چیف جسٹس نے حکم دیاکہ 15 دن بعد کوئی ٹینکر شیریں جناح کالونی میں کھڑا نہیں ہوگا اور آئل ٹینکر والوں نے ہڑتال کی تو سب کو اندر کردیں گے۔

عدالتی حکم پر یوسف شہوانی نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہو پائے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میاں صاحب آپ کے پاس ہر قسم کی حجت ہے، خدا کا خوف کریں کچھ حب الوطنی پیدا کریں۔۔عدالت نے میئر کراچی اور ضیاء اعوان کو ذوالفقار آباد ٹرمینل کا معائنہ کرکے شام تک صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔