احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے حتمی دلائل‘ لندن فلیٹس میں ملکیت ثابت ہوتی تو زائد آمدن کی بات ہوتی۔خواجہ حارث

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جون 13:33

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت جاری
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔20 جون۔2018ء) احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے حتمی دلائل جاری ہیں۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس پر سماعت ہوئی۔ گزشتہ سماعت پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو 4 روز کا استثنیٰ ملنے کے بعد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے حتمی دلائل جاری رکھے۔خواجہ حارث کا کہنا ہے کہ لندن فلیٹس میں ملکیت ثابت ہوتی تو زائد آمدن کی بات ہوتی۔ ثبوت نہیں ملا جب جائیداد خریدی تو پنلک آفس ہولڈر تھے یا نہیں، جب استغاثہ ثابت کر دے پھر بار ثبوت ملزمان پر آتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ استغاثہ ذرائع آمدن اور جائیداد کی تفصیل دیتا ہے پھر کیس فائل ہوتا ہے۔

کیس میں معلوم ذرائع آمدن بتائے ہی نہیں گئے۔ دوران تفتیش نواز شریف کے ذرائع آمدن کا پتا نہیں چلایا گیا۔اپنے دلائل میں انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دیے گئے بیان بطور شواہد استعمال نہیں ہو سکتے۔ نواز شریف نے کبھی نہیں کہا کہ لندن فلیٹس ان کے قبضے میں رہے۔ حسن نواز نے بیان میں نواز شریف کی فلیٹس ملکیت کی بات نہیں کی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیا نے کہا کہ نواز شریف لندن فلیٹس میں رہتے رہے، مالک ہیں۔ نواز شریف اور حسن نواز نے فلیٹس ملکیت کی بات ہی نہیں کی۔خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو کہا کہ نواز شریف نے کسی چیز کی ملکیت تسلیم نہیں کی اور لندن فلیٹس نواز شریف کے نام نہیں ہیں۔سابق وزیراعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری پراسیکیوشن پر عائد ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پر خواجہ حارث نے کہا تھا کہ آپ ہی بتا دیں کہ اس کیس کی کارروائی کو کیسے آگے چلانا ہے، ہماری کوشش یہ نہیں ہونی چاہیئے کہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جائے، ہم سب کو ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا 4 ہفتے میں ٹرائل مکمل کیا جائے، ہمارے پاس 19 دن باقی ہیں، جتنا ہوسکا ہم کریں گے، ہفتے اور اتوار کا دن نکال دیا جائے تو دن کم رہ جاتے ہیں۔