انتخابات 2018 ،ْالیکشن کمیشن نے ساڑھے 3 لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگ لیں

بدھ جون 15:04

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018 فوج کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے موقع پر فوج کی تعیناتی کیلئے وزارت دفاع کو سمری بھیج دی ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکاروں کی خدمات مانگی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات کی جائے گی۔خیال رہے کہ 14 جون کو چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی زیر صدارت عام انتخابات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا تھا جس میں چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز سمیت چاروں آئی جیز بھی شریک تھے۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا تھا کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر پاک فوج کے اہلکار تعینات ہوں گے اور 20 ہزار انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے جو صوبائی حکومت لگائیگی جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر اضافی سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے بتایا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور ترسیل فوج کی نگرانی میں ہوگی اور پاک فوج تمام پرنٹنگ پریسوں کو 27 جون سے 25 جولائی تک فول پروف سیکیورٹی فراہم کریگی۔ترجمان کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے الیکشن کمیشن ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرے گا اور وہ اس کے پابند ہوں گے جبکہ سیکیورٹی کے حوالے سے نیکٹا کو بھی آن بورڈ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات کا انعقاد 25 جولائی کو ہوگا جس کے لیے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں۔