امریکا کا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے دستبرداری کا فیصلہ

امریکا نے کونسل پر اسرائیل سے جانبدار رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے رکنیت سے خارج ہونے کا فیصلہ کیا،اقوام متحدہ

بدھ جون 15:23

نیو یارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) اقوام متحدہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کی رکنیت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرچکا ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ نے بتایا کہ امریکا نے کونسل پر اسرائیل سے جانبدار رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے رکنیت سے خارج ہونے کا فیصلہ کیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نیکی ہیلے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومیپو کے ہمراہ واشنگٹن میں شام 5 بجے پریس کانفرنس کریں گی۔واضح رہے کہ اس سے قبل نیکی ہیلے متعدد مرتبہ اقوام متحد کی کونسل برائے انسانی حقوق سے دستبرداری کی دھمکی دے چکی تھیں۔۔اقوام متحدہ حکام نے تصدیق کی کہ وہ امریکا کی جانب سے انسانی حقوق کی تنظیم سے علیحدگی کے حتمی فیصلے کے اعلان کا انتطار کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے کڑی تنقید کی ہے کہ امریکا کی جانب سے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے دستبرداری کی صورت میں دیگر ممالک پر دباؤ بڑھ جائے گا جبکہ دنیا میں سنگین نوعیت کے انسانی بحران جنم لے چکے ہیں۔۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے امریکی ارادہ ظاہر ہونے کے بعد امید ظاہر کی کہ امریکا کونسل کا ممبر رہے۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر رید رعد الحسن نے امریکی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایسے ‘متوقع’ قرار دیا۔

علاوہ ازیں خیال رہے کہ ماضی میں بھی امریکا اور اقوام متحدہ کی کانسل برائے انسانی حقوق کے درمیان تعلقات میں کشدید رہی ہے، بش انتظامیہ نے 2006 میں کونسل کے قیام پر اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔اس وقت اقوام متحدہ میں امریکا کے مستقل مندوب جان بولٹن تھے جو اس وقت امریکاکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیشنل سیکیورٹی کے مشیر بھی ہیں۔