قرضوں کے پہاڑ کھڑے ہیں،چیف جسٹس کی تشویش درست ہے ‘میاں مقصود احمد

فرسودہ نظام کے باعث قومی خزانہ لوٹنے والوں کی اکثریت بار بار اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہے ، ووٹ کی پرچی کا استعمال سوچ سمجھ کر کے ایسی قیادت کو موقع دیاجائے جو ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہو‘متحدہ مجلس عمل پنجاب کے صد اور امیر جماعت اسلامی پنجاب

بدھ جون 15:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) متحدہ مجلس عمل پنجاب کے صدر اورامیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس ’’ آنے والی پانچ نسلیں بھی مقروض ہو چکی ہیں قرضوں سے نجات کے لئے پوری قوم کو مل کر کام کرنا ہوگا۔‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معاشی ترقی کے راستے میں قرضوں کے پہاڑ کھڑے ہیں،اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہوچکا ہے،حکومتیں بدلتی رہیں مگر عوام کی حالت زار کبھی نہیں بدلی،دونوں بڑی جماعتوں کو عوام کے مسائل اور انکے حل سے کوئی غرض نہیں۔

انہوںنے کہا کہ ملک سے غربت کی بجائے غریب مکائوپالیسی کواختیار کئے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اعتراف کرچکے ہیں کہ ملک میں غربت کی شرح 29فیصد ہے۔

(جاری ہے)

ایک طرف غریب عوام فاقوں کی بدولت خودکشیوںپر مجبور ہیں تو دوسری طرف حکومتی شاہانہ اخراجات ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ۔۔پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے حکمرانوں او ر عوام کو سادگی کا کلچر اپنا نا ہوگا ۔

انہوں نے کہاکہ ملکی بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں پر لگنے والے سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔۔پاکستان میں کرپشن کے ناسور کوختم کرناوقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔۔کرپشن اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔جب تک کرپشن پر قابو نہیں پایاجاتااس وقت تک ملک میں حقیقی جمہوریت بھی بحال نہیں ہوسکے گی۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کے عمل کو اتنا مہنگاکردیا گیا ہے کہ کوئی غریب اور متوسط طبقے کا آدمی الیکشن لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

موجودہ فرسودہ نظام کے باعث جن لوگوں نے ناجائز طریقے سے مال ودولت کمایاہے ان کی اکثریت بار بار اسمبلیوں میں پہنچ جاتی ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے پانامالیکس میں بے نقاب ہونے والے دیگر 436افراد کو بھی منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔میاں مقصود احمد نے مزید کہا کہ نظام میں تبدیلی لانے کا وقت آگیا ہے ۔عوام اپنے ووٹ کی پرچی کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں اور ایسی قیادت کو اوپر لائیں جو حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہو ۔اسی میں ہی ترقی کا راز پنہاں ہے ۔