وکلاء عدلیہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں،ریاست میں طاقت اور مافیا انصاف کے راستے میں رکاوٹ ہے‘جج کو خدا کی خوشنودی سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں

ممبر بار کونسل آزاد جموں وکشمیر خواجہ محمد مقبول وار کی بات چیت

بدھ جون 16:10

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) خواجہ محمد مقبول وار ایڈووکیٹ سپریم کورٹ،، ممبر بار کونسل آزاد جموں وکشمیر نے کہا ہے کہ وکلاء عدلیہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں،ریاست میں طاقت اور مافیا انصاف کے راستے میں رکاوٹ ہے۔جج کو خدا کی خوشنودی سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔اقتدار اور کرسی ایک آزمائش ہے۔ہمارے عدالتی نظام کو برادری ازم نے سخت نقصان پہنچایا ہے۔

جسکی وجہ سے ریاست کا عام آدمی بھی عدلیہ کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آتا۔عدلیہ اور وکلاء کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے جوڈیشل پالیسی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔عدالتی نظام کو درست کرنا ہو گا تاکہ عام آدمی کیلئے باآسانی انصاف کا حصول ممکن ہو سکے۔افراد آتے جاتے رہتے ہیں۔ادارے ریاست کی عزت اور وقار کی علامت ہیں۔

(جاری ہے)

ان کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر وکلاء اور ججز کو ان کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

چاہیے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ماتحت عدلیہ کو رشوت، ذمہ داران کے خلاف جو شکایات حقیقت پر مبنی ہوں ان پر ضرور ایکشن ہونا چاہیے تاکہ حقیقی معنوں میں انصاف کی فراہمی میں حائل رکائوٹیں دور ہو سکیں۔آپ کے اختلافات کی وجہ سے عدلیہ میں موثر اور جاندار طریقے سے اصلاحات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ہم نے خود ساختہ میرٹ کے پیمانے بنا رکھے ہیں۔جسکی وجہ سے عام آدمی بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور عدالتی نظام سے لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔آزاد عدلیہ کے ذمہ داران کو پہلی فرصت میں اس جانب توجہ دینا ہو گا تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔اس سلسلہ میں آزاد کشمیر کے وکلاء عدلیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔

متعلقہ عنوان :