افغان حکومت اور طالبان مابین 3سال کے بڑے وقفہ کے بعد امن مذاکرات کی بحالی

نامعلوم مقام پر مذاکرات شروع،کالعدم تحریک طالبان کی موجودگی پرپاکستان کے شدید تحفظات کا معاملہ بھی زیر بحث ہو گا

بدھ جون 16:49

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) افغان حکومت اور طالبان مابین 3سال کے بڑے وقفہ کے بعد امن مذاکرات کی بحالی متوقع ہے، حکومت اور طالبان کے درمیان خفیہ مقام پر مذاکرات شروع ہو چکے ہیں، مذکرات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی پرپاکستان کے شدید تحفظات کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق افغان حکومت اور طالبان مابین 3سال کے بڑے وقفہ کے بعد امن مذاکرات کی بحالی متوقع ہے۔

حکومت اور طالبان کے درمیان خفیہ مقام پر مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔مذکرات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی پرپاکستان کے شدید تحفظات کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔تفصیلات کے مطابق 3سال کے وقفے کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی دوبارہ بحالی جلد متوقع ہے۔

(جاری ہے)

خیال ظاہر یا جارہا ہے کہ اس حوالے سے افغان حکام اور افغان طالبان کے درمیان ابتدائی بات چیت کسی نامعلوم مقام پر ہوبھی رہی ہے جس میں دیگر ملکوں کے نمائندوں کی شرکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

مذاکرات کے حوالے سے سب سے مشکل ٹاسک طالبان میں موجود ان عناصر کی نشاندہی ہے جو امن عمل کے خواہاں ہیں، اس کے علاوہ افغان سرزمین پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی پرپاکستان کے شدید تحفظات کا معاملہ بھی اہم ہے۔بعض حکام نے معاملے کی نزاکت کے پیش نظر نام نہ بتانے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر جنگ بندی کے اعلان نے ابتدائی بات چیت کی راہ ہموار کی۔

2001میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ عید کے موقع پر جنگ بندی کے دوران یہ غیر معمولی اور غیر متوقع مناظر بھی دیکھنے میں آئے جب افغان سیکیورٹی اہلکاروں اور طالبان جنگجوئوں نے ایک ساتھ عید منائی اور ایک دوسرے کے ساتھ سیلفیاں بھی لیں۔ اسی صورتحال کے پیش نظر افغان صدر اشرف غنی نے عید کے بعد جنگ بندی کی مدت میں مزید 10 روز کی توسیع کا اعلان کیااور طالبان کو غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش بھی کی۔