بھارتی ہجوم نے مسلمان شخص پر تشدد کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا

مسلمان شخص نے گائے کو اپنے کھیتوں سے ہٹایا تھا جس پر ببھارتی مشتعل ہو گئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ جون 16:52

بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 جون 2018ء) : بھارت میں مذہبی منافرت کے کئی کیسز دیکھنے میں آتے رہے ہیں، لیکن حال ہی میں ایک گائے کی وجہ سے بھارتی ہجوم نے مسلمان شخص کی جان لے لی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے ہجوم نے 45 سالہ مسلمان شخص پر دھاوا بولا اور اسے تشدد کر کے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ہندو ہجوم کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اُتارے جانے والے 45 سالہ مسلمان شخص کی شناخت قاسم کے نام سے ہوئی ہے۔

ہندو ہجوم میں شامل لوگوں نے مار مار پر قاسم کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ اور بعد ازاں الزام عائد کیا کہ قاسم نے گائے کو ذبح کیا۔ مذکورہ واقعہ کے وقت موقع پر دو مسلمان موجود تھے جن میں سے قاسم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ قاسم کے ساتھ موجود دوسرا شخص شدید زخمی ہے۔

(جاری ہے)

بھارتی میڈیا کے مطابق قاسم کے گاؤں میں ایک گائے اور اس کا بچھڑا گھُس آئے،جسے قاسم نے بھگا کر اپنے کھیت سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔

لیکن اسی دوران گاؤں کے کچھ لوگوں نے یہ افوا اُڑا دی کہ قاسم نے گائےکو مار دیا جس پر دیکھتے ہی دیکھتے ہندؤں کا ایک ہجوم کھیتوں میں اکٹھا ہو گیا جنہوں نے مل کر قاسم اور اس کے ساتھی پر خوب تشدد کیا۔ بھارتی پولیس نے اس واقعے میں ملوث 25 سے زائد لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ قاسم اور ساتھی کو مارنے پیٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی اپ لوڈ کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کیاجائے گا۔قاسم کی ہلاکت کے بعد علاقہ میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے، علاقہ میں پولیس کی تعیناتی کر دی گئی ہے تاکہ اس طرح کا کوئی اور ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔