کئی روز کی لڑائی کے بعد یمنی فوج نے الحدیدہ ہوائی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا

حوثی باغیوں سے مصلحت کے لیے کی گئی تمام تر سفارتی کوششیں رائیگاں گئی ،ْ سعودی سفارتکار

بدھ جون 17:00

عدن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) یمنی نیشنل آرمی کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا ہے کہ عرب اتحاد کی بدولت حوثی ملیشیا کیخلاف شدید لڑائی کے بعد الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا۔۔سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ویسٹ کوسٹ فرنٹ کے یمنی کمانڈر ابو زہرا المہرامی نے تصدیق کی کہ یمنی فوسز نے عرب اتحادی کے جنگی طیاروں کی مدد سے حوثی باغیوں کے ساتھ خون ریز جنگ کے بعد الحدیدہ کے ایئر پورٹ پر قبضہ کرلیا۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے شہروں کی طرف رک کرلیا اور رہائشی علاقوں میں گھس کر شہریوں کو یرغمال بنا کر فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں اس سے قبل رپورٹ سامنے آئی تھی کہ عرب اتحادی فورسز ہوائی اڈے کے مرکزی احاطے میں داخل ہو چکی ہے۔۔متحدہ عرب امارات کی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہوائی اڈے کا بہت بڑا حصہ یمنی فورسز کے زیر قبضہ ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ الحدیدہ ہوائی اڈے پر اقوام متحدہ ورلڈ فورڈ پروگرام کے 3 طیاروں میں سے کھانے پینے کی اشیاء اتار کی گئی جو 60 لاکھ لوگوں کے لیے مہینے بھر کے بہت ہے۔

اقوام متحدہ میں سعودی سفارتکار ڈاکٹر عبدالعزیز الوسیل نے بتایا کہ عسکری پیش قدمی کا مقصد الحدید شہر میں امن بحال کرنا تھا جو ایرانی حمایتی یافتہ حوثی ملیشیا کے زیر اثر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں سے مصلحت کے لیے کی گئی تمام تر سفارتی کوششیں رائیگاں گئی اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ الحدیدہ ہوائی اڈے کو آزاد کرانے کے لیے حملے میں تاخیر انسانی بنیادوں پر کی گئی اور حوثی ملیشیا کو امن کے ساتھ دستبردار ہونے کا موقعہ فراہم کیا گیا تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہو۔انہوں نے بتایا کہ عرب اتحادیوں نے الحدیدہ اور ملحقہ علاقوں میں ریلیف کیمپ لگا دیئے ہیں۔علاوہ ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑائی میں حوثی ملیشیا کو لڑائی میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔