میڈیا کیخلاف سنسرشپ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے‘ مریم اورنگزیب

آزادی اظہار کو یقینی بنانا اور سنسرشپ روکنامسلم لیگ ن کے منشور کا جزو ہے‘مرکزی ترجمان مسلم لیگ (ن)

بدھ جون 17:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) پاکستان مسلم لیگ(ن)کی مرکزی ترجمان اور سابق وفاقی وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں ٹی وی چینلز اور اخبارات کے خلاف بڑھتی ہوئی سنسرشپ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے۔ آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے کا لازمی جزوہوتا ہے۔اس کے بغیر ایک جمہوری اور مہذب معاشرے کا کوئی تصور نہیں۔

مسلم لیگ (ن) آزادی صحافت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ آزادی اظہار کو یقینی بنانا اور میڈیا کے خلاف سنسرشپ روکنامسلم لیگ ن کے 2018ء کے منشور کا جزو ہے۔ سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافت پر کسی قسم کی قدغن یا صحافیوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیاں قابل قبول نہیں ہیں۔ صحافیوں اورکالم نگاروں کو ہراساں کرنا اور کیبل آپریٹروں اور اخبارات کے ہاکروں پر دبائو ڈالنا آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آزاد میڈیا کے بغیر ملک میں شفاف اورغیر جانبدارانہ انتخابات ممکن نہیں ۔ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے تمام میڈیا گروپس ، صحافی برادری سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو اکٹھا ہو نا پڑے گا۔ روزنامہ ڈان کی ترسیل میں حالیہ دنوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا کہ کسی اخبار تک شہریوں کی رسائی زبردستی روکنا آئینی اور جمہوری تقاضوں کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے مترادف ہیں اور جمہوریت کی حقیقی روح کے منافی ہیں۔ ہمارا آئین ملک میں آزادی اظہار اور آزاد صحافت کا ضامن ہے۔