جیکب آباد: ایم ایم اے پی ایس ٹو کے امیدوار سید شاہ محمد شاہ کی جانب سے عید ملن پارٹی میں معززین کی شرکت

بدھ جون 17:20

جیکب آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) ایم ایم اے پی ایس ٹو کے امیدوار سید شاہ محمد شاہ کی جانب سے عید ملن پارٹی سینکڑوں معززین کی شرکت،عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھرپور جدوجہد کا عزم،عوام کو لوٹنے والوں کا عوام ان انتخابات میں ووٹ کے ذریعے احتساب کریگی،،ایم ایم اے کے امیدواروں کا خطاب تفصیلات کے مطابق متحدہ مجلس عمل جیکب آبادکے صوبائی حلقہ پی ایس ٹو ٹھل کے نامزد امیدوار سید شاہ محمد شاہ کی جانب سے سادات ہاؤس میں عید ملن پارٹی کا اہتمام کیاگیا جس میں ایم ایم اے کے نامزد امیدواروں اور معززین کی بڑی تعداد شرکت کی،اس موقع پر این اے 196کے امیدوار ڈاکٹر اے جی انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کی فلاحی نظام کے قیام،معاشی خوشحالی،خودکفالت اور روزگار کی فراہمی کے لیے جدوجہد جاری ہے جاگیردار ی اور وڈیراشاہی اقتدار پر پہنچی صرف تجوریوں کو بھراہے اور اس بار عوام جاگیرداری اوروڈیراشاہی کو ٹھکراکر انسانیت کے جذبے کے ساتھ جدوجہد کرنے والوں کو کامیاب کرے،پی ایس ٹو کے امیدوار اورمیزبان سید شاہ محمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل،سستی بجلی،،گیس کی فراہمی ہمارامنشورہے،انہوں نے کہاکہ قومی خزانے اوروسائل کے ناجائز استعمال اورکرپشن کے خاتمے اورسادگی کے کلچر کو بڑھایاجائے گا،پی ایس تھری گڑھی خیرو کے امیدوار اسرار احمد کھوسو نے اپنی تقریرمیں کہاکہ ایم ایم اے ہرشہری کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتی ہے ریاستی تشدد ظلم جبر اورکرپشن کے خاتمے،اختیارات اوروسائل کی نچلی سطح تک منصفانہ تقسیم ہمارا عزم ہے،اس موقع پرمفتی علی حسن برڑو،مولانا عبدالقادربنگلانی،سید عبدالباسط شاہ،امداد اللہ بجارانی،مولانا عبدالمالک گھنیو،مفتی عبدالشکورکھوسو،حاجی عبدالستار کھوسو،مولانا محمد حیات گھنیو اور دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت،،تعلیم اوردیگر سہولیات ایم ایم اے فراہم کرے گی،صوبوں کے حقوق اور خودمختاری کو یقینی بنایاجائے گا،عوام کے لیے چھوٹی صنعتوں کو قائم کرکے روزگار فراہم کیاجائے گا،کسانوں،مزدوروں کے جائز اورفوری معاوضہ،آبادگاروں کے بیج،زرعی ادویات،ٹیوب ویل،اوراس کے لیے سستی بجلی دی جائے گی اورغیر ضروری ٹیکسز ختم کیے جائیں گے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایم ایم اے کے امیدواروں کوکامیاب کرکے اپنا مستقبل سنوارنا چاہیے ۔