کشمیر بارے میں کل جماعتی پارلیمانی گروپ کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹ جاری

بدھ جون 18:00

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر کے بارے میں کل جماعتی پارلیمانی گروپ نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری پامالیوں کے بارے میں ایک عبوری رپورٹ جاری کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے انسانی حقو ق کی پامالیوں کے بارے میں مختلف شہادتیںملنے کے بعد تیار کی گئی ۔

گروپ کے چیئرمین کرس لیسلی نے لندن میں گروپ کے ایک اجلاس میں یہ رپورٹ جاری کی ۔ رپورٹ میں کالے قوانین آرمڈ فورسز اسپیشل پاور زایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ اور جبری گمشدگیوں کے بارے میں تفصیل سے غور کیاگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو نہتے کشمیریوں کو قتل اور طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنے اور کسی بھی شخص کوبلا جوازطورپر نظربند کرنے کے خصوصی اختیارات حاصل ہے ۔

(جاری ہے)

اس ایکٹ کے تحت انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث کسی بھی فوجی اہلکارکے خلاف سول کورٹ میں مقدمہ چلانے کیلئے بھارتی حکومت کی اجازت ضروری ہے جو کہ کبھی کبھار ہی ملتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی حکومت نے 2001کے بعد سے بھارتی حکومت سے 50فوجی اہلکاروں کے خلاف مقدمات چلانے کیلئے اجازت طلب کی اور بھارتی حکومت 47اہلکاروںکے خلاف مقدمات کی اجازت نہیں دی ۔

رپورٹ کے مطابق آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ پورے مقبوضہ علاقے میں لاقانیت بڑھ رہی ہے ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کا بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا ایک کالا قانون ہے جس کے تحت بھارتی فورسز کو کسی بھی شہری کو انتظامی طورپر نظربند کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔کل جماعتی پارلیمانی گروپ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تجاویز سے اتفاق کیا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندی شہری اور سیاسی حقوق کے بارے میں بین الاقوامی کنونشن کیلئے ضروری قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جس کا بھارت بھی ایک فریق ہے۔

2014میں بھارت کے حق اطلاعات کے تحت ایک درخواست میں انکشاف کیاگیا تھا کہ 1988سے 16ہزار329افراد کو اس قانون کے تحت بلاجواز طورپرنظربند کیاگیاجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں انتظامی نظربندی کے اختیارات کا بڑے پیمانے پر ناجائز استعمال کیاجارہا ہے ۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کی جانے والی نظر بندیاں اصول و ضوابط کے معیار پر پورا نہیں اترتیںکیونکہ نظر بندوں کو وکیل کرنے کی استعدا کا حق حاصل نہیں جبکہ اس قانون میں عدالتی نظر ثانی کے حوالے سے بھی کوئی طریقہ کار طے نہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اے پی پی کے جی نے مقبوضہ علاقے میں جبری گمشدگیوں کے بھی کئی موثرشواہد جمع کر لیے ۔ رپورٹ میںافسوس ظاہر کیا کہ جب قابض فورسز کے سامنے موثر الزامات پیش کیے جاتے ہیں تو وہ ان کی تحقیقات کے لیے بھی تیار نہیںہوتیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گو کہ جبر گمشدگیوں کے حوالے سے باقاعدہ طور پر کوئی سرکاری ریکارڑ موجود نہیں تاہم گمشدگیوں کو تعداد ہزاروں میں ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انٹرنیشنل پیپلز ٹریبونل آن ہیومن رائٹس نے 2009کی اپنی تحقیقات میں کشمیر کے 55دیہات میں دریافت ہونے والی گمنام اجتماع قبروں میں 2ہزار 9سو 42ناقابل شناخت لاشوں کی موجودگی کا ذکر کیا ہے ۔ آئی پی ٹی ایچ آر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لاشیں لاپتہ کیے گئے ان 8ہزاروں افراد میں سے بہت سوں کی ہونگی جنہیں بھارتی فورسز نے لاپتہ کر دیا ہے۔