فاٹا اور پاٹا کا انضمام ،ٹیکس پیکیج میں صنعتی اور کاروباری افراد کو ٹیکس چھوٹ نہیں دی گئی ،میاں زاہد حسین

نئی صنعتوں کو ٹیکس میںچھوٹECC کی منظوری کے ساتھ مشروط کرنا حوصلہ شکنی کے مترادف ہے،صدر کراچی انڈسٹریل الائنس

بدھ جون 18:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ فاٹا اور پاٹا کا خیبرپختونخواہ کے سا تھ انضمام ایک تاریخی فیصلہ ہے جو ہر لحاظ سے قابل تعریف ہے۔جہاں اس تاریخ ساز اقدام سے آنے والے دنوں میں قبائلی عوام کے لئے ترقی کے بے تحاشہ مواقع میسر ہونگے وہیں اس فیصلے کے عملی نفاذ سے وفاق اورصوبہ کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں ٹیکس نوٹیفیکیشن میں سقم سے مو جود کاروباری اورصنعتی حلقے شدید خدشات کا شکار ہورہے ہیں، جن کا فوری حل ازحد ضروری ہے۔

میاں زاہد حسین سے سا بقہ فاٹا اور پاٹا کی بزنس کمیونٹی نے گفتگو میں کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 31مئی2018کے نوٹیفیکیشن کے مطابق وفاقی کا بینہ کی اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی نے فاٹا اور پاٹا میں پانچ سالہ ٹیکس چھوٹ کی منظوری دی تھی مگرتفصیلات پہلے سے اعلان کردہ ٹیکس پیکیج سے بالکل مختلف ہیں جس سے کاروباری حلقوں میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

ارباب اقتدار کے بیانات کے مطابق 31ویںآئینی ترمیم سے پہلے فاٹا اور پاٹا میں صنعتوں کو سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس میں چھوٹ حا صل تھی اسی طرح اس انضمام کے بعد پانچ سال تک اہل صنعت و تجارت پر کسی قسم کا ٹیکس لاگو نہیں ہونا تھا ، مگر FBRکے حالیہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ چھوٹ صرف عام افراد کو حاصل ہوگی، کاروباری اور صنعتی اداروں کو یہ استثنٰی حاصل نہیں ہوگاجوکہ حیرا ن کن ہے اور حکومتی وعدوں کی نفی ہے۔

مزید اس نوٹیفیکیشن میںاہلِ صنعت وتجارت کو اس با ت کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ 30ستمبر 2018سے پہلے FBRسے خود کو رجسٹرڈ کروائیں، جو انضمام کے وقت کئے گئے اعلانات سے متضاد ہے۔ اسی طرح روز مرہ اشیائے ضرورت کی خریداری پر گھریلوصارفین پر کوئی ٹیکس لا گو نہیں ہو گا جبکہ اس نوٹیفیکیشن میں کاروباری اور صنعتی صارفین کا ذکرموجود نہیں ہے۔۔بجلی میں سیلز ٹیکس کی چھوٹ صرف گھریلو صارفین کو میسر ہے جبکہ صنعت اور کاروبار کا ذکر یہاں بھی نہیں کیا گیا۔

ودہولڈنگ ٹیکس پر بھی تنخواہوں کے علاوہ چھوٹ دی گئی ہے، جبکہ اصولاًہر طرح کی چھوٹ میں تنخواہوں کو بھی شامل ہونا چاہئے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ نئی صنعتوںکے لئے انکم ٹیکس میںچھوٹ کو اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کی منظوری کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے، جو سرمایہ کاری کرنے والوں اور نئی صنعتیں لگانے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے مترادف ہے۔

اس ضمن میں خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اسپیکر نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کوخط لکھا ہے جس میں مذکورہ وعدوں پر عملدرآمد کے لئے توجہ مبذول کروائی گئی ہے ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا کے خیبر پختونخواہ حکومت کے ساتھ انضمام کے اس بڑے اور تاریخی فیصلے سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ علاقہ کے کاروباری حلقوں کی جائزشکا یا ت کا ازالہ کیاجائے ورنہ دوسری صورت میں صنعتوں اور تجارتی اداروں پر ٹیکسوں کے نفاذ سے ٹیکسوں کا سارا بوجھ عوام پر منتقل ہوجائیگالہٰذا برسوں سے احساس محرومی کے شکار قبائلی عوام کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا باسہولت راستہ دیا جائے۔

میاں زاہد حسین نے ارباب اقتدار اور متعلقہ حلقوں سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا ہمدردانہ جائزہ لیا جائے اورFBRکے متذکرہ نوٹیفیکیشن کو جلد از جلد تصحیح کے ساتھ دوبارہ جاری کیا جائے اور حکومتی اعلان کے مطابق تمام صنعتی اور کاروباری افراد کو ٹیکس میں چھوٹ دے کر فوائد فراہم کرنے کا اعلان کیا جائے تاکہ سابقہ قبائلی خطے میں نئی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ موجودہ صنعت وتجارت ترقی کرکے ملکی معیشت میں بہتر کردار ادا کرسکیں۔