تین صوبوں کی نگراں کابینہ میں6بزنس مینوں کی شمولیت خوش آئندہے،یو بی جی

نگراں وزراء فضل الٰہی ،سردارتنویرالیاس ،فیصل مشتاق اورمس فرزانہ بلوچ بزنس کمیونٹی کی خدمت کرینگے ایس ایم منیر،افتخار علی ملک،زبیرطفیل،گلزار فیروز،نوید بخاری،خالدتواب،اختیار بیگ،شکیل ڈھینگڑا،ممتاز شیخ کی مبارکباد

بدھ جون 18:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے رہنمائوںنے مزید 4تجارتی رہنمائوں کی پنجاب ،کے پی کی اور بلوچستان نگراںکابینہ میں بطور وزیر شمولیت پر مسرت کا اظہارکرتے ہوئے تینوں صوبوں کے نگراں وزراء اعلیٰ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے ۔یو بی جی کے چیئرمین افتخار علی ملک،سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر،سیکریٹری جنرل اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی زبیرطفیل،مرکزی ترجمان گلزار فیروز،،سندھ ریجن کے چیئرمین خالدتواب،مرزااختیار بیگ، یو بی جی کینیڈا چیپٹرکے چیئرمین نوید بخاری ،شکیل احمد ڈھینگڑااورممتاز شیخ نے سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی فضل الٰہی کی خیبرپختونخوا نگراں حکومت ،سابق چیئرمین اسلام آبادبلڈرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن سردارتنویرالیاس اور پنجاب کے معروف بزنس مین فیصل مشتاق کی پنجاب کی نگراں حکومت اورویمن چیمبر کوئٹہ کی رہنما مس فرزانہ بلوچ کی بلوچستان نگراں حکومت میں بحیثیت وزراء شمولیت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امیدظاہرکی ہے کہ وزارت کا منصب سنبھالنے کے بعدفضل الٰہی ،سردارتنویرالیاس ،فیصل مشتاق اورمس فرزانہ بلوچ بزنس کمیونٹی کی خدمت کرینگے۔

(جاری ہے)

یو بی جی رہنمائوں نے کہا کہ خوشی اس بات کی ہے کہ صوبائی نگراں کابینہ میں تجربہ کارافرادشامل کئے گئے ہیں اور بزنس کمیونٹی کو مثبت نمائندگی دی گئی ہے جس کیلئے ہم پنجاب،،کے پی کے اوربلوچستان کے نگراں وزراء اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے سے نگراں حکومتوں میں انجم نثار اور نوید جان بلوچ کی شمولیت کے بعد اب مجموعی طور پر6بزنس مین تین صوبوں کی نگراں کابینہ میں موجود ہیں اور کاروباری برادری کی6 نمائندوں کو موجودہ حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز کرنا خوش آئند ہے،حکومت کے اس فیصلے سے کاروباری برادری کے اعتماد میں اضافہ ہو گا جبکہ حکومت اور بزنس کمیونٹی کے مابین فاصلے کم ہونگے جو معیشت کیلئے بہتر ہے۔

انھوں نے کہا کہ بزنس مینوں کی اکثریت بطور سیاستدان کامیاب رہتی ہے کیونکہ انکا ایجنڈا ملک و قوم کی ترقی ہوتی ہے۔وہ لینا نہیں بلکہ دینا چاہتے ہیں اور عوام کے وسائل لوٹنا نہیں چاہتے۔ایسے لوگ ملکی نظام میں توانائی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ انھیں نتائج حاصل کرنے کی عادت اور تربیت ہوتی ہے۔