نواز شریف کی کرپشن اور ماڈل ٹائون کیس میں طلبی کے فیصلے بلاتاخیرہونے چاہئیں‘طاہرالقادری

وزیراعظم اور الیکشن کمیشن گورنر ہائوسز کے سیاسی و انتخابی استعمال پر خاموش کیوں ہیں سربراہ عوامی تحریک

بدھ جون 18:20

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ نواز شریف کی کرپشن اور ماڈل ٹائون کیس میں طلبی کے فیصلے بلاتاخیر ہونے چاہئیں،،کرپشن کیسز کو پری پول رگنگ سے جوڑنا بدنام زمانہ سازشی بیانیہ ہے، بنگلہ دیشی وزیراعظم بھی کرپشن پر جیل میں ہیں، نواز شریف کے جیل جانے سے کوئی قیامت نہیں ٹوٹے گی ۔

پارٹی کے سینئر رہنمائوں کے مشاورتی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ الیکشن کمیشن اور نگران وزیراعظم گورنر ہائوسز کے سیاسی و انتخابی استعمال پر خاموش کیوں ہیں کیا آئینی و ریاستی سربراہان کا ایک جماعت کی انتخابی مہم میں شریک ہونے سے فیئر اینڈ فری الیکشن کا ماحول متاثر نہیں ہورہا ٹیکس چوروں، قتل عام کے نامزد ملزمان اور کرپشن کیسز میں ٹرائل ہونے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی، کاغذات نامزدگی داخل اور منظور کرنے کے مراحل میں آئین کے آرٹیکل 63/62 کو نظرانداز ہوئے،ووٹرز کے ڈیٹا چوری کی رپورٹس پر ابہام دور کرنے کیلئے نگران وفاقی حکومت بلاتاخیر پالیسی جاری کرے، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے مخصوص نشستوں پر اہلخانہ کی جھولیاں بھریں، سٹریٹ ورکرز چاہیں توپولیٹیکل لارڈز کے خلاف عزت دومہم چلا سکتے ہیں، عوام لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے جھوٹے دعوے کرنے والوں کا ووٹ سے محاسبہ کریں، کرپٹ اشرافیہ نے 5 سال میں مہنگائی،، قرضے،،لوڈشیڈنگ،، روپے کی بے قدری اور کرپشن کے تحفے دئیے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ عام آدمی کیلئے تعلیم،، صحت کی سہولیات کی فراہمی کا معیار گرا، پارٹی امیدواروں کے 23 جون کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل دینگے۔۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ ملک و قوم کا پیسہ لوٹنے پر نواز شریف خاندان جیل میں جائے گا، تاہم شریف برادران اور ان کے حواریوں کو سانحہ ماڈل ٹائون کیس میں ٹرائل کیے جانے کے منتظر ہیں، ہمارے بے گناہ کارکنوں کے قاتل نواز شریف اور شہباز شریف ہیں، ان کی طلبی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں فل بنچ سماعت کررہا ہے اور ہم فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ نواز شریف لندن فلیٹس کے اصل مالک ہیں اور یہ جائیدادیں آف شور کمپنیوںاور بچوں کے نام پر خریدی گئیں، نواز شریف کی منی لانڈرنگ اور لوٹ مار کھلی کتاب کی طرح ہے، انہیں سزائوں اور جیل جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، نواز شریف نے پارلیمنٹ میں لندن فلیٹس کی ملکیت کا اعتراف کیا،منی ٹریل دینا بھی انہی کی ذمہ داری ہے،قطری کے خط کی صورت میں جو مضحکہ خیز منی ٹریل دی گئی وہ مسترد ہو چکی، اب وہ جیل جائینگے۔