انتخابات میں دھاندلی کا خواب دیکھنے والے ہاتھ ملتے رہ گئے

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات فوج کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کر لیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ جون 18:52

انتخابات میں دھاندلی کا خواب دیکھنے والے ہاتھ ملتے رہ گئے
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-20 جون 2018ء) ::انتخابات میں دھاندلی کا خواب دیکھنے والے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات فوج کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق الیکشن 2018 کو پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین الیکشن سمجھا جارہا ہے۔اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں پہلی مرتبہ ایسا ہوگا کہ انتقال اقتدار جمہوری انداز سے تیسری حکومت کے سپرد ہوگا۔

اس الیکشن کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ اس الیکشن میں بہت سی سیاسی جماعتوں کا سیاسی مستقبل بھی طے ہو گا بالخصوص مسلم لیگ ن اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی سیاسی طاقت تحریک انصاف۔۔ دونوں جماعتوں نے ہی اس الیکشن کو بڑا سیاسی معرکہ سمجھ کر سیاسی جنگ شروع کر دی ہے۔

(جاری ہے)

اس وقت سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

ملک بھر سے سیاسی پہلوانوں نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے ہیں اور انکلی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔دوسری جانب اداروں نے بھی عام انتخابات کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور تمام معاملات بڑی تیزی سے آگے بڑھائے جارہا ہیں۔اس حوالے سے پری پول رگنگ اور انتخابات میں بھی دھاندلی کا شور ابھی سے مچنا شروع ہو گیا ہے۔ایک جانب مسلم لیگ ن کو انتخابات کے نتائج ابھی سے معلوم ہیں تو دوسری جانب عمران خان بھی وفاق کو بیوروکریسی کی جانب سے لاحق خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے خط لکھ رہے ہیں ۔

تاہم تازہ ترین خبر کے مطابق دھاندلی کرنے والوں کے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں،،الیکشن کیشن آف پاکستان نے انتخابات کا سارا انتظام و انصرام فوج کے حوالے کرنے کی ٹھان لی۔۔انتخابات میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے فوج تعینات کی جائے گی۔ چناؤ کے عمل کو فوج کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ الیکشن کمیشن نےفوج کی تعیناتی کیلئے سمری وزارت دفاع کو بھجوا دی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کیلئے ساڑھے تین لاکھ فوجی اہلکار درکار ہیں، انتخابات میں پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات ہوگی جبکہ ملک بھر میں ایک لاکھ پچاسی ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔