25 جولائی کو پختونوں کی زمین پر ایک مرتبہ پھر پختونوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا، امیر حیدر ہوتی

اسلام آباد کے خواہشمندوں کو پھر سے اسلام خطرے میں نظر آ رہا ہے اور اب وہ اسلام کے نام پر عوام کو ورغلانے کیلئے میدان میں نکلے ہوئے ہیں ، فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد باجوڑ اور دیر میں اس وقت تک ٹیکس نہیں دیں گے جب تک یہاں کے پسماندہ علاقے پنجاب کے ترقیافتہ علاقوں کے برابر نہیں آ جاتے ، نوجوان پرویز خٹک اور ان کی کابینہ سے اربوں روپوں کے قرضوں کا حساب مانگیں، دیر لوئر پی کی16 جندول میں انتخابی مہم سے خطاب

بدھ جون 19:30

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو پختونوں کی زمین پر ایک مرتبہ پھر پختونوں کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا، اسلام آباد کے خواہشمندوں کو پھر سے اسلام خطرے میں نظر آ رہا ہے اور اب وہ اسلام کے نام پر عوام کو ورغلانے کیلئے میدان میں نکلے ہوئے ہیں ، فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد باجوڑ اور دیر میں اس وقت تک ٹیکس نہیں دیں گے جب تک یہاں کے پسماندہ علاقے پنجاب کے ترقیافتہ علاقوں کے برابر نہیں آ جاتے ، ان خیالات کا ااظہار انہوں نے دیر لوئر پی کی16 جندول میں انتخابی مہم کے حوالہ سے حاجی بہادر خان کی سربراہی میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پی ٹی آئی کی اہم سرکردہ سیاسی شخصیات نے اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، امیر حیدر خان ہوتی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی ، انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام قومیتیں اپنی قوم کے رہنماؤں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں، پنجابی پنجابیوں کیساتھ اور سندھی سندھیوں کیساتھ کھڑے ہوکر انہیں کامیاب کراتے ہیں پختونخوا کے عوام کو پختونوں کیساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے مسلمان پھر سیاست کرتے ہیں اسلام نے کسی کو یہ اجازت نہیں دی کہ کوئی جماعت اسلام کو بنیاد بنا کر ووٹ مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 5 سال تک سراج الحق صوبائی حکومت میں اور مولانا فضل الرحمان مرکزی حکومت میں وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے اس دوران اسلام بھی محفوظ رہا اور جب حکومت ختم ہوئی تو اسلام کو خطرات درپیش ہونے لگے حالانکہ خطرہ اسلام کو نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہم مکاری جھوٹ فریب دھوکہ دہی پر نہیں بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے شرعی نظام عدل ، دارالقضاء کا قیام اور تعلیمی ادارے و یونیورسٹیاں قائم کی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ بھی لڑی ہے اس لیے ہماری کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن نوجوانوں نے نئے پاکستان اور تبدیلی کے نام پر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا وہ دیکھ لیں عمران خان نے ان کے سامنے پیراشوٹ امیدواروں کو ٹکٹ دے کر دیرینہ کارکنوں کیساتھ کیا سلوک کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان پرویز خٹک اور ان کی کابینہ سے اربوں روپوں کے قرضوں کا حساب مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کا اختیار عوامی نیشنل پارٹی کو ملا تو وزیر اعظم سے صوبہ کے بقایاجات لے کر ضلع کی سطح پر یونیورسٹیاں بنائیںگے، صحت اور تعلیم کے مراکز بنائیں گے ضرورت کی بنیاد پر روزگار دینگے، انہوں نے کہا کہ اے این پی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور اقتدار میں آ کر 5سی10لاکھ روپے تک بلاسود قرضے نوجوانوں کو دے گی تا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکیں ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت نے بے روزگاری کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کو چوہے مار مہم پر لگا دیا جبکہ بعد ازاں چین کے ساتھ گدھوں کی تجارت شروع کر دی گئی جس سے ان کی غیر سنجیدگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ،صوبے کو مالی اور انتظامی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ، صوبے کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر منصوبے مکمل نہیں کئے گئے ، سابق وزیر اعلیٰ نے حکومت کے خاتمے کی جلدی میں ایکسپریس وے کے صرف10کلومیٹر کا افٹٹاح کیا جبکہ 350ڈیم پشاور کی سڑکوں پر با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر پشاور کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ۔

صوبائی صدر نے کہا کہ ہم نے شوکت خانم کیلئی50کنال اراضی مفت فراہم کی اور مولانا کی درخواست پر مفتی محمود فلائی اوور کو ان کے والد کے نام سے منسوب کیا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ، انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ الیکشن کی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں۔ تقریب کے دوران ضلعی صدر حسین شاہ خان ، ضلعی صدر نیشنل یوتھ عمران ٹاکر، حاجی بہادر خان، NA7 کے امیدوار نظیر گجر و دیگر نے بھی خطاب کیا۔