گردشی قرضوں کے حوالے سے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس

گردشی قرضوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال ، نجی شعبے میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے استعداد کار اور ملک کی معیشت پر مجموعی طور پر پڑنے والے اثرات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

بدھ جون 19:30

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) گردشی قرضوں کے حوالے سے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے کنونیئر سینیٹر شبلی فراز کی سربراہی میں بروز بدھ پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں گردشی قرضوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال ، نجی شعبے میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے استعداد کار اور ملک کی معیشت پر مجموعی طور پر پڑنے والے اثرات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی کو وزارت توانائی ، نیپرا ، پرائیوٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان نے تفصیلی بریفنگ دی ۔کمیٹی کے کنونیئر سینیٹر شبلی فراز نے اس بات پر تشویش کااظہار کیا کہ گردشی قرضوں کے باعث ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور صنعتی شعبے اور گھریلو صارفین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ گردشی قرضوں کا مسئلہ انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے اور توانائی کی پیداوار میں کمی کے باعث ملک کی سیکورٹی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا دیر پا حل نکالنے کی اشد ضرورت ہے اور تمام اداروں کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا اور قابل عمل حکمت عملی بنا کر آگے بڑھنا ہوگا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز میر کبیر احمد محمد شاہی ، ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی ، کہدہ بابر نے شرکت کی ۔

کمیٹی نے ہدایات دیں کہ کیسکو اور جینکو بھی اس ضمن میں اہم سٹیک ہولڈر ہیں اور انہیں بھی کمیٹی کے اگلے اجلاس میں شرکت یقینی بنانا ہوگی تاکہ ان کا بھی نقطہ نظر کمیٹی کے سامنے آ سکے ۔ سینیٹر جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ بجلی کی کمی کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کو مسائل کا سامنا ہے اور انہیں ریلیف فراہم کیا جائے ۔ کمیٹی کے کنونیئر نے گردشی قرضے کے مسئلے کے حل کیلئے متعلقہ وزارت سے بھی تجاویز طلب کیں ۔

وزارت نے بتایا کہ گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے مختلف اقدامات اٹھانے ہونگے اور اس ضمن میں بہتر ہوگا کہ ڈیسکوز صوبوں کے حوالے کی جائیں اور پبلک سیکٹر کمپنیوں کے سربراہان کو جلد تبدیل نہ کیا جائے ۔ کیونکہ جلد تبادلوں کے باعث کمپنیوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ بجلی کی چوری ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اس کے باعث قومی خزانے کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور نظام کی خرابیوں کے باعث بجلی کی چوری ہو رہی ہے جس کی وجہ سے گردشی قرضے میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ضروری ہے کہ گورننس کے معاملات کو بہتر بنایا جائے ۔